خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 130
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۰ خطبه جمعه ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء میں نے اس سے قبل بھی ذمہ دار اصحاب کو توجہ دلائی تھی کہ احباب جماعت پر مالی بوجھ سارے سال پر پھیلا کر ڈالا کریں تا کہ بعض دوستوں کو چندوں کی ادائیگی میں کوفت اور تکلیف نہ ہو لیکن جس طرح بعض احباب غفلت برتتے ہیں اسی طرح بعض عہدیدار بھی سارا سال پوری تند ہی سے کا م نہیں کرتے۔سال کے آخر میں اپنے بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ بعض جماعتیں ایسی بھی رہی ہیں اور اس سال بھی ہیں جو وقت سے پہلے اپنا بجٹ پورا کر دیتی ہیں ( میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں مختصر سا خطبہ دینا چاہتا ہوں) اور اب ایسی جماعتیں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ سات یا دس یا بارہ فی صد اپنے بجٹ سے زائد قربانیاں دے کر اور ایثار دکھا کر محبت الہیہ کا اظہار کریں اور غلبہ اسلام کی اس مہم کے ساتھ اپنے تعلق کو نمایاں سے نمایاں تر ثابت کریں چنانچہ ایک جماعت جس کا سالانہ بجٹ تین ساڑھے تین لاکھ روپے کا تھا وہ اپنا یہ بجٹ پورا کر چکی ہے اور اب کوشش کر رہی ہے کہ ۴۰۔۵۰ ہزار روپے زائد جمع کر لے۔اس قسم کی کئی اور جماعتیں بھی میرے علم میں ہیں ( لیکن اگر میں نے ان کے نام لینے شروع کئے تو بات لمبی ہو جائے گی ) پھر بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں جو عام طور پر سال کے آخر میں اپنا بجٹ پورا کر دیتی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اکثر جماعتیں ایسی ہی ہوں گی البتہ بعض جماعتیں ایسی بھی ہیں کہ جو کبھی بھی اپنا بجٹ پورا نہیں کرتیں۔وہ سوئی رہتی ہیں اس حد تک کہ آخری وقت میں بیداری کے باوجود ان کی کوششوں کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نکلنا چاہیے۔ایسی جماعتوں کو بار بار توجہ دلائی گئی ہے لیکن بعض جماعتوں کو کاغذی گھوڑے دوڑانے کی عادت پڑ گئی ہے اور بعض ایسے عہد یدار بھی ہیں کہ ان کو مثلاً پہلی ششماہی گزرنے کے بعد جب ناظر بیت المال کا خط جاتا ہے کہ اس ششماہی میں یعنی پچھلے چھ ماہ کے بجٹ کے مطابق اتنی وصولی ہونی چاہیے تھی مگر اس کے مقابلہ میں مثلاً چھ مہینے کا بجٹ اگر سو روپے ہے تو وصولی ستر فیصد ہے اس لئے توجہ دیں تو ان کو جواب یہ آتا ہے اور عہد یدار یہ سمجھتا ہے کہ اتنا لکھ دینا کافی ہے کہ آپ کا خط ملا۔میں نے اس کی نقول مختلف حلقوں میں بھجوادی ہیں۔اگر حلقوں میں خط بھیجوانے ہوتے تو یہاں سے ان کو براہ راست بھجوائے