خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 123

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۳ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء نشوو نما کے نتیجہ میں اسلام کی طرف لے آئیں۔پس یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔بنی نوع انسان سے للہی محبت و پیار اور ان کی مخلصانہ خدمت کے نتیجہ میں ان کا دل جیتا جا سکتا ہے۔اس میں ان کا اپنا فائدہ بھی ہے۔جب ہم بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے کہتے ہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق قائم ہو جائے۔لیکن اگر اپنی مخلصانہ کوشش اور ہمدردانہ رویہ سے کسی کا دل عارضی طور پر جیت نہ سکیں تو کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کا جو بنیادی حق قائم کیا گیا ہے وہ بدل جائے گا۔وہ بہر حال اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے۔آپ نے جس شخص کے ساتھ اس کے مخالفانہ رویڈ کے باوجود اس کی بھلائی کے لئے مخلصانہ پیار کیا اس کا رد عمل وہ نہیں ہو سکتا جو آپ چاہتے ہیں۔تب ہی آپ نے مخلصانہ پیار کیا۔کسی ایک کوشش کی ناکامی کوشش کو چھوڑ دینے کی دلیل نہیں بن سکتی اس لئے کسی احمدی کا یہ کہنا کہ ہم ایک دفعہ ناکام ہو گئے اس لئے ہم کوشش ہی نہیں کریں گے یا ہم ایک سو ایک دفعہ نا کام ہو گئے اب ہم کوشش نہیں کریں گے یا ہم ایک ہزار ایک دفعہ ناکام ہو گئے اب ہم کوشش نہیں کریں گے یا ایک لاکھ ایک دفعہ ناکام ہو گئے اب ہم کوشش نہیں کریں گے، درست نہیں ہے۔ہم نے ساری عمر مخلصانہ محبت و پیار اور محسن سلوک اور ہمدردی کے ساتھ بنی نوع انسان کے دلوں کو خدا تعالیٰ کی خاطر جیتنے کی کوشش کرتے چلے جانا ہے۔اس کوشش کی انفرادی انتہا ایک فرد کی موت ہے۔جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو وہ دار الا بتلا سے باہر نکل جاتا ہے اس جہان سے باہر جا کر جزا وسزا کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس پر اس دنیا کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں۔لیکن جب تک انسان زندہ ہے اس کو خدا کا یہی حکم ہے کہ جس کے ساتھ تو میری خاطر مخلصانہ پیار اور محبت کرتا ہے، جس کے ساتھ تو میری رضا کے حصول کے لئے ہمدردی رکھتا ہے۔جس کے ساتھ تو میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے محسن سلوک کرتا ہے۔اگر وہ اس سارے پیار کے باوجود تجھے دھتکار دیتا ہے اور تجھ سے دشمنی رکھتا ہے یا تیری بے لوث خدمت کی قدر نہیں کرتا تو پھر اگر تو نے یہ سب کچھ میری خاطر کیا ہے تو اس کی بے قدری کی پرواہ کیوں کرتا ہے تو یہ کام کئے جا اس کے صلے میں تجھے میری رضا اور پیار ملتا رہے گا۔لیکن میں نے حقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق