خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 122

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۲ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء نتیجہ میں ہے، ورنہ کوئی مخلوق ایسی نہیں اور نہ کوئی ہستی ایسی ہے جو یہ کہے کہ میں اپنے زورِ بازو سے کوئی کام کر سکتا ہوں یا الہی منصوبوں کو ناکام بنا سکتا ہوں۔ہم نے خدا کے متعلق ، خلق اور پیدائش کے متعلق ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کے متعلق جو کچھ سنا ، دیکھا اور پایا ہے اور جس کا عرفان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے طفیل عطا فرمایا ہے اس کی رُو سے کسی انسان کا از خود کسی کام کی طاقت ناممکن ہے اگر انسانی کام میں اللہ تعالیٰ کی اجازت یا مشیت کارفرما ہوتی ہے۔شاید کوئی پاگل ہی یہ کہہ دے تو کہہ دے کہ میرے فلاں کام میں اللہ تعالیٰ کو اختیار نہیں ہے ورنہ کوئی عقل مند آدمی تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کسی پاگل کے دماغ میں بھی یہ خبیثانہ عقیدہ نہیں آسکتا کہ خدا کی مشیت سے باہر رہ کر انسان کوئی کر سکتا ہے۔تاہم بعض لوگ توحید کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور بعض نہیں سمجھتے یہ اور بات ہے۔پس حقوق اللہ کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کو کچھ نہ سمجھے۔ہر خیر کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جانے اور غیر اللہ کو خواہ وہ دنیوی لحاظ سے کتنی ہی طاقتور ہستی کیوں نہ ہو لاشے محض سمجھے۔گویا غیر اللہ کو ایک مُردہ کیڑے سے بھی کم تر سمجھے۔کیونکہ مردہ کیڑا بھی تو آخر کچھ شے ہے۔چھوٹی سی چیز سہی اور بے جان ساذرہ سہی مگر ایک شے تو ہے ہم نے خود کو اس سے بھی کم تر سمجھنا ہے۔یہ ہے حقوق اللہ اور ان کی ادائیگی کی اصل حقیقت جسے ہر وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔دوسرے حقوق العباد ہیں اور ان کی ادائیگی ہے۔اس کے متعلق میں ایک بنیادی بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ اچھے سمجھ دار لوگ بھی بہک جاتے ہیں۔حقوق العباد کے متعلق بنیادی طور پر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنا ان سے مخلصانہ محبت و پیار کرنا اور ان سے حسن سلوک کرنا ضروری ہے۔بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی یہ ایک بنیادی حقیقت ہے جس کے ذریعہ بنی نوع انسان کے دل جیتے جاسکتے ہیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کو باہنا ہمارا فرض ہے۔انسانی خدمت بہت ضروری ہے تا کہ ہر بندہ خدا اپنی خدا داد طاقتوں کی صحیح نشو و نما کر سکے اور چونکہ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کی رُو سے اسلام دین فطرت ہے۔اس لئے فطرت کی صحیح