خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 112

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۱۲ خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء جماعت احمدیہ سے باہر نکل جاتا ہے خواہ کسی طرف سے اس کے متعلق اعلان ہو یا نہ ہو کیونکہ ہماری زندگی کا انحصار قرآن کریم پر ہے۔قرآنی تعلیم پر عمل پیرا رہنا ہماری زندگی کا اولین مقصد ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق يُخي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ کا الہام ہے۔اس الہام کی رو سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وساطت سے آپ کو یہ بشارت بھی دی اور احیائے دین اور قیامِ شریعت کی بھاری ذمہ داری بھی آپ پر عائد کی گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ آپ دین کا احیاء فرمائیں گے دین کی جو باتیں لوگ بھول گئے ہیں وہ اُن کو دوبارہ یاد کرائیں گے۔ویسے دین تو حی یعنی زندہ ہے اسلامی شریعت تو ابدی ہے لیکن اس پر عمل کرنے والوں پر شرعی لحاظ سے جب مرد نی چھا جاتی ہے تو احیائے دین یعنی بنی نوع انسان کو دین پر قائم کرے اور انہیں ایک نئی روحانی زندگی دینے کے لئے کسی آسمانی وجود کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اسی غرض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے یعنی شریعت حقہ اسلامیہ کو قائم کرنے کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے یہ وہ عظیم الشان فریضہ ہے جس کو سر انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مہدی معہود علیہ السلام کو مرسل بنا کر اس دنیا میں بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے۔پس ان واضح ہدایات کے باوجود اگر کوئی احمدی ایسا نہیں کرتا تو وہ احمدیت سے نکل جاتا ہے لیکن اگر وہ بے جانے بوجھے ایسا نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اُس کے کانوں میں یہ باتیں بار بار نہیں ڈالیں اس صورت میں اس کی غلط روش کے ذمہ دار ہم ٹھہرتے ہیں۔مجھ پر یہ ذمہ داری آتی ہے۔جماعت کے عہدیداروں پر ذمہ داری آتی ہے۔شاہدین مربیان پر ذمہ داری آتی ہے۔صرف عہد یداران یا مربیان کا سوال نہیں بلکہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة: ۳) کی رو سے ہر ایک احمدی پر اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہم سب پر یہ ذمہ داری عقلاً اور شرعا معروف باتوں کے متعلق ہے۔غرض قرآنِ کریم ایک بڑی عظیم اور حسین شریعت ہے۔مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ دین اور دُنیا کی باتیں شرعاً معروف ہی ہو سکتی ہیں اور منکر کے دائرہ کے اندر بھی آسکتی ہیں مگر جو