خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 108

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۰۸ نہ ہوں بلکہ انسانی معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہوں۔خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۷۳ء پس جو مشورے ان تین عنوانوں کے ذیل میں نہیں آتے ان کے متعلق قرآن کہتا ہے لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ تَجُوهُهُمْ ایسے مشوروں میں کوئی خیر اور بھلائی کی بات نہیں ہوتی۔چنانچہ جس چیز کو سب صحیح الفطرت انسان درست سمجھیں اُسے عربی میں خیر کہتے ہیں حضرت امام راغب کو اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا ذہن عطا فرمایا تھا۔انہوں نے مفردات میں خیر “ کے معنے یہ لکھے کہ ہمیشہ سب انسان ہی خیر سمجھیں تب وہ چیز خیر ہوگی۔یہ مطلق خیر ہے یا یہ کہ چونکہ زمانہ زمانہ، قوم قوم اور ملک ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں اس لئے ہر زمانہ ، ہر قوم اور ہر ملک ایک چیز کو خیر سمجھتا ہے مگر دوسرے زمانہ میں وہ چیز خیر نہیں رہتی۔چنانچہ انسان کی اقتصادی زندگی کے اکثر پہلو زمانہ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں مثلاً ایک چیز جو صنعتی ترقی سے پہلے خیر سبھی جاتی تھی وہ اب خیر نہیں سمجھی جائے گی کیونکہ آئے دن نئے نئے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں ہر قسم کے مسائل سے نپٹنے کے مشورے اور کوششیں خیر کے مشورے اور کوششیں ہوتی ہیں اور چونکہ مسائل بدلتے رہتے ہیں اس لئے زمانہ کے لحاظ سے بھی اور بدلے ہوئے مکان کے لحاظ سے بھی یہ مطلق خیر نہیں بنتی بلکہ اپنی نسبت کے لحاظ سے خیر ہے یعنی زمانہ کی نسبت ، حالات کی نسبت اور مسائل کی نسبت سے وہ خیر ہے تاہم جہاں تک بھلائی اور حسن اور اصلاح پیدا کرنے اور قرب الہی کی راہیں ڈھونڈھنے کا سوال ہے وہ پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے تین حصوں میں منقسم ہے لیکن جہاں ایسا نہیں ہوتا یعنی جہاں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر پیسے خرچ کر کے خیر کے سامان پیدا نہیں کر رہا تو ایسے مشورے لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نُّجُوهُمْ کے مصداق ہوتے ہیں۔غرض ”صدقة“ کے لفظ میں حقوق العباد کی ادائیگی کے تحت اقتصادی خوشحالی مراد ہے۔اس میں حقوق اللہ کی ادائیگی بھی شامل ہے گویا اموال کے خرچ کے بارہ میں مشورے کرنا صدقة کے حکم میں آتا ہے۔دوسرے وہ مشورے ہیں جو حقوق العباد کی ادائیگی کے متعلق کئے جاتے ہیں۔پھر خیر مطلق اور خیر نسبتی بھی ہوتی ہے ان کا آپس کا فرق اس بات سے عیاں ہو جائے گا کہ ایک وقت میں کارخانوں وغیرہ میں ہڑتالیں کرنا غیر قانونی تھا چنانچہ اس وقت جماعتِ احمد یہ