خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 107

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۱/۶ پریل ۱۹۷۳ء الا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ کی ذیل میں آتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔او مَعْرُوفِ یعنی خیر کا دوسرا بنیادی مشورہ معروف باتوں کے متعلق مشورہ کرنا ہے۔عقل اور شرع ہر دولحاظ سے جو چیز حسن ہو ، خوبصورت ہو اور بھلی ہو اس کو عربی زبان میں معروف کہتے ہیں۔جس چیز کو شرع حسن سمجھتی ہے عقل بھی اس کو صحیح سمجھے گی۔اگر انسان فطرت صحیحہ کا مالک ہے تو اس کی عقل ہر شرعی حکم کو خوبصورت اور بھلا جانے گی گویا ہر شرعی معروف عقلاً بھی معروف ہوگا بشرطیکہ فطرت صحیحہ کارفرما ہو۔انسانی زندگی کے بہت سے ایسے حقائق ہیں جن کے اصول تو ہمیں بتا دیئے گئے ہیں۔لیکن اُن کی تفاصیل کے سمجھنے کے لئے زمان و مکان کی بدلتی ہوئی صورتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ہر زمانہ، ہر مقام اور ہر حالت کے مطابق عقل کہتی ہے کہ یہ چیز معروف ہے۔یہ چیز عقل کے نزدیک۔اچھی ہے۔پس اگر چہ ہر دو لحاظ سے بنیاد تو مذہبی ہی ہے لیکن بعض دفعہ اسلامی شریعت پر عمل کرنے والا۔اسلام کو ماننے والا یہ کہے گا کہ عقلی بھلائی کی جو باتیں سوچی گئی ہیں وہ قرآنِ کریم کی فلاں آیت یا فلاں تعلیم کی ذیل میں آتی ہیں لیکن جو دنیا دار لوگ ہیں جن کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں یا جو مذہب سے دور ہیں ، وہ یہ کہیں گے کہ انسانی عقل ان چیزوں کو درست سمجھتی ہے اس لئے یہ درست ہے۔پس اگر معروف کا مشورہ ہو تو وہ قرآن کریم کے نزدیک خیر کا مشورہ ہے لیکن جس چیز کو شریعت حقہ اور انسانی عقل اور فطرت صحیحہ حسن اور بھلا نہیں سمجھتی وہ خیر کا مشورہ نہیں ہے مثلاً ڈاکہ ڈالنا ہے یا مثلاً ملک میں فتنہ و فساد بر پا کرنا ہے یا مثلاً بغاوت کے خیالات رکھنا اور باہمی مشورہ سے بغاوت کی راہ ہموار کرنا۔یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کی شرع بھی اجازت نہیں دیتی اور انسانی عقل بھی اگر وہ درست ہو اور پوری طرح تربیت یافتہ ہو اور اچھی طرح نشوونما پا چکی ہوتو وہ بھی اس قسم کی مفسدانہ روش کو غلط قرار دے گی۔پھر فرما یا او اصلاح بَيْنَ النَّاسِ لوگوں کے درمیان صلح کرانا تیسری قسم کا بنیادی مشورہ ہے یہ بھی خیر اور بھلائی کا مشورہ ہے۔اصلاح معاشرہ کے ذیل میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ ایسے حالات پیدا کرنا کہ باہمی اختلافات بہت کم پیدا ہوں یا جب اختلافات پیدا ہوں تو وہ فساد پر منتج