خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 95

خطبات ناصر جلد پنجم ۹۵ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ دوسرا شخص پہاڑی کے آخری اور سب سے بلند مقام پر کھڑا نہیں ہوا۔پس ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اس معنی میں جس معنی میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہمارے محبوب اور پیارے ہیں آخری نبی سمجھنا چاہیے لیکن بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی کے باوجود کوئی شخص پہلے آسمان پر بھی نہیں جا سکتا۔بعض کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ دوسرے آسمان پر بھی کوئی نہیں جا سکتا۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں تیسرے آسمان پر بھی کوئی نہیں جا سکتا کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ چوتھے اور پانچویں آسمان پر بھی کوئی نہیں جا سکتا۔اسی طرح چھٹے اور ساتویں آسمان تک بھی کوئی نہیں جاسکتا حالانکہ اگر آپ کی اُمت میں سے کوئی شخص حضرت آدم کا رتبہ اور آپ کی رفعت حاصل کر لے تو مقام محمدیت پر اس کا کیا فرق پڑا وہ تو چھ سات آسمان آپ سے نیچے ہے۔اسی طرح اگر کوئی آدمی ساتویں آسمان تک پہنچ جاتا ہے (جس کی حدیث میں بھی خوشخبری دی گئی ہے ) تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔اگر حضرت ابرہیم علیہ السلام کے مقام تک پہنچنے سے ختم نبوت پر اثر پڑتا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وجود یہ اثر ڈال چکا ہے۔کسی اور کو رخنہ ڈالنے کی ضرورت نہیں لیکن فی الواقعہ یہ امر رخنہ نہیں ڈالتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا شمرہ ، آپ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ ایک ایثار پیشہ قوم تیار ہوگئی جسے ابراہیم علیہ السلام نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے تیار کیا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مقام پر اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے کس چیز پر قربان کرنے کے لئے؟ خدا نے فرمایا تھا میرے عرش پر، میرے عرش کی رفعتوں کے حصول کے بعد میری دائیں طرف بیٹھنے والا تیری نسل میں پیدا ہونے والا ہے۔اس فخر پر (جو تجھے نصیب ہو رہا ہے کہ وہ تیری نسل میں پیدا ہوگا ) اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اپنی نسل کو اس ممتاز اور منفرد شخصیت پر قربان کر دو۔گو اس کی تعبیر کچھ اور تھی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام ظاہری طور پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس کی تعبیر یہ تھی اور تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل