خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 43

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء قسم کے دُکھ سہنے پڑتے ہیں۔پھر یہ کرب عظیم جب اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور مومن انسان کو نظر آتا ہے کہ رات کے اندھیرے سر پر آگئے۔دن ختم ہو رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد ہمیں نظر نہیں آ رہی۔کیا رات کے یہ اندھیرے، یہ تاریکیاں اور یہ ظلمتیں ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیں گی اور ہم ناکامیوں کا منہ دیکھیں گے؟ غرض جب تکلیف اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اُس وقت مومن اپنے ایمان کی پختگی سے یہ نعرہ بلند کرتا ہے۔مَتى نَصُرُ اللَّهِ - (البقرة : ۲۱۵) کہ اے میرے رب ! تو نے میرا امتحان لیا اور میں نے اپنی طرف سے تیری راہ میں انتہائی قربانی بھی پیش کر دی اور آئندہ بھی دریغ نہیں کروں گا لیکن خواہ میں مرجاؤں یا مٹ جاؤں تب بھی میں تیری راہ میں آخری وقت تک قربانی دیتا چلا جاؤں گا لیکن اے خدا! تیرے وعدے بھی تو تھے ؟ کیا میں اپنے امتحان میں ناکام رہا؟ نہیں! میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔میں اس ذلت کے داغ کو برداشت نہیں کر سکتا۔اگر اجتماعی زندگی میں آخری آدمی بھی مارا جائے گا تو قوم کہتی ہے یا اُمت کہتی ہے کہ میں تیری راہ میں قربانی دیتی چلی جاؤں گی لیکن اے خدا! اب تو رات سر پر آگئی۔کیا یہ اندھیرے ہمیں نگل لیں گے؟ کیا وہ نور جس کا تو نے وعدہ دیا ہے وہ نور ہمارے لئے ہماری راہوں کو روشن اور منور نہیں کرے گا ؟ غرض مَتی نَصُرُ اللہ کی پکار کا وقت وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کرب عظیم کی حالت کو پہنچ جاتا ہے یعنی تکلیف اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور جب قربانی انتہائی طور پر پیش کر دی جاتی ہے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے میرے بندے ! تو کیوں گھبراتا ہے؟ میں نے تیرا امتحان لیا ہے۔تو نے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔تو اپنے عہد پر قائم رہا تو میں اپنے عہد سے کیسے پھر جاؤں گا جو سچے وعدوں والا ہوں اور تمام قدرتوں کا مالک ہوں۔میں تیرے قریب ہوں۔میری مدد تجھے پہنچ رہی ہے چنانچہ پھر کامیابی پر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔لیکن مسلمان کہلانے والے جس زمانہ میں بھی عصر کے وقت کا انتظار نہیں کرتے اور اپنی