خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 42

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء حقوق جو تمہارے نیک اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق قائم ہوں گے اُن کو تلف کیا جائے گا۔گویا نہ ظلم کا خطرہ باقی رہے گا اور نہ حق تلفی کا۔تا ہم اللہ تعالیٰ زبانی دعوی کو نہیں مانتا۔زبان سے تو ہر وہ شخص جسے خدا تعالیٰ نے زبان دی ہے کوئی نہ کوئی دعوی کر سکتا ہے۔اُس کے لئے دعویٰ کرنا محال نہیں ہے لیکن اس کے دعوئی میں کہاں تک صداقت ہے یہ اس شخص کے عمل سے ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ محض زبانی دعوی بے فائدہ ہے فلاح اور کامیابی پر منتج نہیں ہوا کرتا۔اس لئے دعوئی ایمان بھی ہو اور عمل صالح بھی ہو اور نیک اعمال میں پختگی بھی ہو۔اللہ تعالیٰ سے محبت کا رشتہ بھی اُستوار ہو اور اس رشتہ میں وفا اور ثبات قدم بھی ہو۔انسان تمام امتحانوں اور آزمائشوں پر پورا بھی اُترے تب انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کو حاصل کیا کرتا ہے اگر ایسا نہیں تو پھر صرف دعووں کے نتیجہ میں یہ عظیم نعمتیں کہ جن سے بڑھ کر دُنیا میں اور کوئی نعمت نہیں ، انسان کو نہیں ملا کرتیں۔چنانچہ مومن کی جو آزمائش کی جاتی ہے اور اس کا جو امتحان لیا جاتا ہے وہ ہمیں قرآن کریم میں کئی قسم کا نظر آتا ہے۔قرآن کریم نے اس پر بہت روشنی ڈالی ہے مثلاً ایک امتحان قضا وقدر کی صورت میں ہمیں نظر آتا ہے۔ایک امتحان شیطانی وساوس کے مقابلہ میں کمزور ایمان والوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اسوہ نہ بنانے اور پختہ ایمان والوں کا اس فتنہ کو دور کرنے کی کوشش میں ہمیں نظر آتا ہے۔ایک امتحان منافق کے منافقانہ حملوں کا مقابلہ کرنے میں ہمیں نظر آتا ہے۔ایک امتحان کافر کے اس منصوبے میں مومن کا لیا جاتا ہے کہ دشمن اسے اس دُنیا میں مٹا دینا چاہتا ہے۔چنانچہ جہاں تک اس آخری امتحان کا تعلق ہے یعنی اسلام کا دشمن ، اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو دنیوی اور مادی طاقت کے ساتھ مٹا دینا چاہتا ہے، ایسے امتحان میں (میں اکثر مثال دیا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی مدد عصر کے وقت نازل ہوتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لمبا عرصہ ابتلاء میں ، امتحان میں ، دُکھ میں ، کرب عظیم میں اور مصیبت میں گذرتا ہے۔انسان کو تکلیف سہنی پڑتی ہے۔جان دینی پڑتی ہے یعنی جب قومی یا اجتماعی زندگی کا امتحان لیا جارہا ہو تو ہر