خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 529

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۹ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء اس کو دور کر نے کے لئے خدا تعالیٰ کو استغفار کے ذریعہ خوش کرنا پڑتا ہے اور اس کی پیدا کردہ ادویہ سے فائدہ اٹھانا پڑتا ہے۔پھر جہاں تک بیماری کے علاج کا تعلق ہے اور بیمار کی ذہنی کیفیت کا سوال ہے، ہمیں دنیا میں تین قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ایک قسم وہ ہے جو دائیں طرف جھکے ہوتے ہیں دوسرے وہ جو بائیں طرف جھکے ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جو صراط مستقیم کی راہ پر قائم ہوتے ہیں۔چنانچہ جو لوگ دائیں کو جھکے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ شفا تو اللہ تعالیٰ نے دینی ہے اس لئے کسی دوا یا تدبیر کی کیا ضرورت ہے۔اس کے مقابلہ پر جو لوگ بائیں کو جھکے ہوئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ صرف دوا کافی ہے۔دوا نے شفا دینی ہے۔ایسے لوگ خدا کا خانہ خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ان دو انتہاؤں کے درمیان جو لوگ صراط مستقیم پر قائم ہوتے ہیں یعنی اس سیدھی اور درمیانی راہ کو اختیار کرتے ہیں جس کا اُمَّةً وَسَطًا میں ذکر ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا۔دوائیوں کو بھی اسی نے پیدا کیا اس لئے دوانہ کرنا جہاں اس کی نعمتوں کی ناشکری ہے وہاں دوا پر گلی بھروسہ کرنا کفر اور شرک ہے اور توحید کی راہ سے بھٹکنے کے مترادف ہے۔پس جو لوگ یہ کہتے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی نے شفا دینی ہے تو پھر دوا کرنے کی کیا ضرورت ہے، ان سے میں یہ کہوں گا کہ پیٹ بھرنا بھی تو اللہ کا کام ہے لیکن کبھی تم نے یہ نہیں کہا کہ کھانا کھا کر کیا لینا ہے۔پیٹ تو اللہ نے بھرنا ہے۔کبھی کسی آدمی نے یہ نہیں کہا کہ سردی سے اللہ نے حفاظت کر دی ہے اس لئے سردی کے موسم میں گرم کپڑے پہنے کی کیا ضرورت ہے مثلاً ان دنوں سردی کی لہر آگئی ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ شاید اس سے بھی زیادہ آئے گی بہر حال سردی کی وجہ سے لوگ گرم کپڑے مثلاً سویٹر اور کوٹ وغیرہ پہنتے ہیں لیکن اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ کپڑے پہننے کی کیا ضرورت ہے ہم لنگوٹا باندھیں گے یا ستر کا حصہ ڈھانپ لیں گے اور چلیں پھریں گے۔اب جو شخص بھی ایسا کرے گا وہ بیمار ہو جائے گا اور پاگل کہلائے گا۔اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دواشفادے گی خواہ خدا تعالیٰ کی مشیت کچھ اور ہو اور وہ شفا نہ دینا چاہے اس قسم کا خیال بھی غلط ہے۔دوا صرف اس صورت میں شفا دے گی جب اللہ تعالیٰ کا اسے حکم ہوگا اور ہم دوا کو اس