خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 34

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء محبوب نے انتہائی خوف کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا کامل پیار حاصل کیا۔دوسری طرف انتہائی خوف ایک اور شکل میں ابو جہل کے دل میں تھا۔اُسے ہر وقت یہ خوف لاحق تھا کہ میری سرداری نہ چھن جائے یعنی اس کے دل میں یہ خوف رہتا تھا کہ حق صداقت کے حق میں یہ بات کرنے سے یا بتوں کے خلاف آواز اٹھانے سے اس کی سرداری نہ جاتی رہے لیکن یہ خوف قابل نفرت ہے پس اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں جو قو تیں اور استعداد میں رکھی ہیں ان کا ایسا استعمال ہو کہ جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے یا اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو جائے اور یہی ہماری اخلاقی قوت ہے۔پھر روحانی قوت ہے جس سے ہم اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں ہم اس ورلی زندگی کے محدود ہونے کے باوجود ابدی نعمتوں کے وارث بن جاتے ہیں۔میں اس تفصیل میں اس وقت نہیں جانا چاہتا کیونکہ یہ ایک لمبا مضمون بن جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار قسم کی قوتیں اور استعداد میں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ساری قوتوں اور صلاحیتوں کو نشوونما کے کمال تک نہیں پہنچاؤ گے تو تم خسران میں ہو گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً کیا ہم تمہیں بتائیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ گھاٹا پانے والا ، سب سے زیادہ گمراہ اور ہلاکت میں پڑنے والا کون ہے؟ فرماتا ہے۔ہلاکت میں پڑنے والا اور راہ گم کرنے والا وہ شخص ہے جس نے اگر چہ اپنی جسمانی اور ذہنی طاقتوں کی نشونما کو انتہاء تک پہنچا دیا۔مگر ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اس نے اپنی اخلاقی اور روحانی طاقتوں کی طرف اور ان کی نشو و نما کی طرف توجہ نہ دی۔غرض اس آیت میں ہمیں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ اگر ہم چاروں قسم کی قوتوں میں سے ہر قسم کی تمام قوتوں کی نشو و نما نہیں کریں گے تو ہم گھاٹے میں رہیں گے مثلاً انسان کو چار قسم کی قوتیں دی گئی تھیں مگر اس آیت کی رو سے انسان نے دو قوتوں پر زور دیا اور باقی دو یعنی اخلاقی اور روحانی قوتوں کو نظر انداز کر دیا مگر آج تو ہمیں یہ سوچ کر شرم آتی ہے کہ جہاں تک ان دو کا تعلق تھا یعنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی نشوونما کا اس میں بھی غیر مسلم دنیا مسلمان کہلانے