خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 446

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۴۶ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت اس کے پیار اور رضا کو جذب کرنے کے لئے قرآن کریم نے بہت سے طریق بتائے ہیں جن کی عملی تفسیر ہمیں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ میں نظر آتی ہے۔چنانچہ جب ہم اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان میں فیوض الہیہ کے جذب کرنے کے بہت سے طریق جمع کئے گئے ہیں۔میں تمہیداً یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ایمان اور اعمالِ صالحہ کو بڑے حسین پیرایہ میں بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایمان کی مثال درخت کی ہے اور اعمالِ صالحہ کی مثال اس پانی کی ہے جو اس درخت کے لئے آب حیات بنتا ہے۔چنانچہ وہ درخت جو پہلے ایک پیج کی شکل میں ہوتا ہے اور جو اپنی روئیدگی نکالتا ہے۔پھر اس میں پختگی آتی ہے اور پھر وہ مضبوطی سے اپنی جڑ پر قائم ہو جاتا ہے پھر وہ پھیلتا اور وسعت پکڑتا ہے۔اس کی شاخوں پر پتے نکلتے ہیں۔پھر وہ خوبصورت درخت اس قابل ہو جاتا ہے کہ اسے پھل لگیں۔یہی حال انسان کے ایمان اور اس کے مجاہدہ کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے ایمان کے بیج کو اعمال صالحہ کے زندگی بخش پانی سے سیراب کر کے اس کے مجاہدہ کو اس حد تک پھیلایا ہے کہ وہ روحانی طور پر پھل لگنے کے قابل ہو سکے۔چنانچہ جس وقت انسان اپنی پوری کوشش اور مجاہدہ کے نتیجہ میں اعمالِ صالحہ بجالاتے ہوئے اپنے درخت وجود کونشو ونما دینے کے بعد اس شکل میں لے آتا ہے جس شکل میں مثلاً عام طور پر دنیوی درختوں کے پھل لگا کرتے ہیں تو گویا اس مالی کا جو اپنے ہی وجود کے باغ کی پرورش کر رہا تھا کام ختم ہو گیا۔اس کے بعد اگر انسان کے اعمالِ صالحہ مقبول ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے تو پھر آسمان سے ایک ایسا خاص فضل نازل ہوتا ہے جو انسان کے درخت وجود کو بار آور اور ثمر آور بنا دیتا ہے۔انسان خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہوتا اور جنت کے بے شمار اور غیر محدود پھل حاصل کرتا ہے وہ ان سے لذت پاتا اور روحانی طاقت حاصل کرتا ہے۔گویا جنت یہیں اسی دنیا سے اعمال صالحہ بجالانے کے نتیجہ میں شروع ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف مثال ہی نہیں دی بلکہ کچھ تفصیل میں جا کر بھی