خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 377
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷۷ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء مجھے اور آپ کو جن کی آنکھیں صحیح و سلامت ہیں کہے گا کہ سورج کی طرف نگاہ نہ کرو اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچے گا۔مگر وہ ایک نابینے کو یہ ہدایت نہیں دے گا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ایسے زمانے بھی آئے اور آتے رہے ہیں اور آتے بھی رہیں گے جن میں تھوڑے یا بہت لوگ جو امت محمدیہ کے افراد اور آپ کی طرف منسوب ہوں گے مگر وہ اپنی روحانی بصیرت اور بینائی کو کھو بیٹھیں گے۔چنانچہ اس حقیقت کو جب قرآن کریم نے بیان کیا تو فرمایا ایسے موقعوں پر سورج کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔سورج کی روشنی میں تو کوئی کمی نہیں آتی۔ایک پردہ ہوتا ہے جو سورج کے گرد آ جاتا ہے۔یہ پردہ انسانی آنکھ پر پڑ جاتا ہے جو سورج کو دیکھنے نہیں دیتا۔پس جہاں تک نجوم کا سوال ہے قرآن کریم نے دو محاورے استعمال کئے ہیں۔ایک ستاروں کا گر جانا یا جھڑ جانا جسے قرآن کریم نے وَ اِذَا الكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ (الانفطار : ٣) کے الفاظ میں بیان کیا ہے اور دوسرے ان کا دھندلا جانا یعنی علمائے روحانی جو دراصل اسلام کا سب سے زیادہ حسین اور مفید حصہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ خودا اپنی رحمت اور اپنے فضل سے قائم کرتا ہے۔اور اب تک ایسے علماء امت محمدیہ میں بڑی کثرت سے لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہو چکے اور لاکھوں کی تعداد میں آگے پیدا ہوں گے۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ہم نے ماضی کی تعداد یاد نہیں رکھی۔مستقبل کی تعداد کے متعلق کچھ کہنے کی کیسے جرات کر سکتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ضرور فرمایا ہے۔میج اعوج یعنی اسلام کے تنزل کے زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھ کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے اولیاء اللہ بڑی کثرت سے پائے جاتے تھے۔لیکن جہاں یہ کہا گیا تھا کہ ستارے گر جائیں گے اس کا مطلب یہی تھا کہ بہت سارے رہ بھی جائیں گے۔گو پوری ضرورت کو کما حقہ پیدا کرنے والے نہیں ہوں گے۔تاہم ان کے وجود سے دنیا خالی نہیں ہوگی۔آپ نے دیکھا ہوگا جب آندھی آتی ہے تو آم کے درخت کا پھل گر جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس درخت پر کوئی آم بھی نہیں رہا کچھ گرتے ہیں اور کچھ باقی رہ جاتے ہیں۔