خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 378

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۷۲ء پس ستاروں کے گرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہدایت دینے والے علماء کی تعداد کم ہو جائے گی۔چنانچہ جس وقت ہدایت دینے والے کم رہ جاتے ہیں تو ایک ایسا طبقہ اُبھر آتا ہے جو اپنے آپ کو عالم کہتا ہے کیونکہ نجوم کا تو بہر حال وعدہ دیا گیا ہے۔اس لئے یہ طبقہ بھی اپنے آپ کو نجوم یعنی روحانی ستارے سمجھتا ہے۔مگر در حقیقت یہ لوگ اسلامی محاورہ میں علمائے ظاہر ہوتے ہیں۔جو علمائے باطن یعنی روحانی علماء کی روشنی کو مکدر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سورج کی روشنی تو قیامت تک قائم رہنے والی ہے مگر جس طرح ہمارا یہ سورج ہے جب دن چڑھتا ہے اور سورج طلوع ہوتا ہے تو ایک نابینا شخص اسے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح علمائے ظاہر کے غلط استدلال کے نتیجہ میں اُمت محمدیہ کے افراد کی نظر میں علمائے باطن یعنی روحانی علماء دھندلا جاتے ہیں۔اُن کی روشنی ان کو نظر نہیں آتی کیونکہ ان کی آنکھیں کام نہیں کرتیں۔لیکن انسان کی غفلت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے علمائے باطن کی پیدائش کا ایک سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری کر رکھا ہے۔چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: - في كتب مكنون (الواقعۃ:۷۹) وہاں ابتداء کی ہے نجوم کے گرنے سے چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلا أُقْسِمُ بِمَواقع النُّجُومِ (الواقعة : ٦) نجوم کے گرنے کو میں گواہی کے طور پر پیش کرتا ہوں۔کہ خدا تعالیٰ ہر زمانے میں علمائے باطن کو پیدا کرے گا۔روحانی علماء پیدا ہوتے رہیں گے۔لیکن امت محمدیہ کا جو حصہ علمائے ظاہر پر مشتمل یا ان کے اثر کے نیچے ہو گا ان کے لئے یہ چمکنے والے ستارے ہدایت کا موجب نہیں بنیں گے۔ان کے لئے ان کی روشنی دھندلی دھندلی ہوگی وہ اسے سمجھ نہیں سکیں گے جیسا کہ آج کل دیکھ لیں۔ہمارا تجربہ بھی یہی ہے۔دنیا میں علمائے ظاہر نے باطنی علماء کی روشنی کو دھندلا کر دیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: - فَلَا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ یعنی میں نجوم کے گرنے کی قسم کھاتا ہوں۔پھر فرمایا : - وَإِنَّهُ لَقَسَم لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ (الواقعة : )