خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 371
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء موجودہ انقلابی تحریکیں تمہید ہیں اس عظیم اسلامی انقلاب کی جو آخری زمانہ میں مقدر بن چکا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :۔وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - (الفرقان: ۳۱) مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام : ٣٩) اور پھر فرمایا:۔اس سے قبل چند خطبات میں اس مضمون پر دے چکا ہوں۔قرآن کریم ایک عظیم ہدایت اور کامل شریعت ہے۔خود قرآن کریم نے اپنی عظمت اور علو شان کا دعویٰ بھی کیا ہے اور اس پر دلائل بھی قائم کئے ہیں۔قرآن کریم کی اس عظمت اور کمال کے باوجود بنی نوع انسان کی ایک بڑی تعداد اور خود اُمت محمدیہ کا ایک حصہ اس قرآنِ عظیم سے قطع تعلق کرتا ہے۔وہ نہ زبان سے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرتا اور نہ اپنے عمل سے اپنے دلی لگاؤ کا اظہار کرتا ہے۔قرآن کریم کی ایک اور عظمت اور شان آیت کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں بیان کر دی گئی جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی عظمت کا اظہار بھی کیا ہے اورس پر دلیل بھی قائم کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے علم میں یعنی علم الہی میں کوئی ایسی بنیادی بات نہیں تھی