خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۷ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء Flow out ( فلو آؤٹ ) یعنی ابل کر باہر نکل رہی ہوتی ہیں اور اسی معنی میں نسل کا لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی انسانی قوتوں اور استعدادوں سے افعال اور اعمال خود بخو دسرزد ہونے لگتے ہیں مثلاً مال ہے، روپیہ پیسہ ہے سوائے چند کنجوس لوگوں کے جو دنیا میں ہرجگہ پائے جاتے ہیں باقی لوگ اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں۔روپیہ خرچ کے ذریعہ خود بخود ہماری جیبوں سے علیحدہ ہوتا رہتا ہے۔اب مثلاً آپ اپنے بچے کو پڑھانے کے لئے استاد مقرر کرتے ہیں اور اسے روپے دیتے ہیں تو گویا اس طرح آپ کے ہاتھ سے روپیہ نکل گیا یا مثلاً گندم ہے آپ اسے کھاتے ہیں اسے Consume ( کنزیوم) کر جاتے ہیں گندم کی شکل میں کھاتے ہیں اس سے آپ کو مثلاً چلنے کی طاقت مل گئی آپ نے آٹھ میل سیر کی۔کچھ طاقت آپ کے جسم سے نکل گئی۔انسانی وجود کے اندر ساری قوتیں بند تو نہیں رہتیں۔وہ انسانی جسم سے باہر نکل رہی ہوتی ہیں۔غرض جسمانی طاقتوں کے Out Flow ( آؤٹ فلو ) کو باندھ دیا ہے نشوونما کے ساتھ۔ہم جتنا جتنا ان طاقتوں کو استعمال کرتے ہیں اتنا ہی یہ چیزیں نشو و نما میں ممد و معاون بن جاتی ہیں۔پس بنیادی طور پر یہی دو چیزیں اس دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر رہی ہیں مثلاً ایٹم کی ایجاد ہے۔ایٹم پاور کی ایجاد ہے۔دوسری مادی چیزیں ہیں جنہوں نے مختلف شکلیں اختیار کر رکھی ہیں۔پھر یہ ساری یو نیورس ہے۔یہ ذرائع پیداوار کی علامت ہے۔ذرائع پیداوار کے اندر نسل یعنی انسانی طاقتیں تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں اور اس طرح یہ کام کی چیزیں بن رہی ہیں۔گویا آسمان سے لے کر زمین تک ہم نے انسانی ہاتھ کا تصرف دکھا دیا مثلاً انسان چاند پر پہنچ گیا۔اب چاند پر پہنچنے کے لئے آسمان سے کوئی اڑن کھٹولا تو نہیں آ گیا تھا۔یہ انسان کی استعداد میں اور قو تیں تھیں جو پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی تھیں یعنی سائنس دانوں نے فزکس کے اصول پر سائنسی تحقیق کی ان قواعد اور قوانین کے مطابق عمل کیا جو خدا تعالیٰ نے بنائے ہوئے ہیں تو وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے۔اب مثلاً جو حساب دان سائنٹسٹ ہیں انہوں نے اپنی دریافت اور ایجاد کی بنیا د حساب پر رکھی۔حساب بھی ایک سائنس اور فلسفہ بن گیا ہے۔چنانچہ وہ از روئے حساب سوچ رہے تھے فکر و تدبر کر رہے تھے۔خود ہمارے ڈاکٹر سلام بھی فکر و تدبر میں لگے رہتے ہیں اس کی