خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 346
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۶ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء انسان سے فرمایا۔میں نے تجھے قو تیں تو دی ہیں مگر ان قوتوں کی صحیح نشو و نما کر کے تم جنت میں بھی جاسکتے ہو اور ان قوتوں کی غلط نشو و نما کر کے جہنم میں بھی جاسکتے ہو۔تجھے یہ اختیار دیا ہے اور تیری قوتوں کے نشو و نما کے سامان بھی پیدا کر دیئے ہیں یعنی ربوبیت کے مفہوم میں ہر قوت جو انسان کو بحیثیت مجموعی یا افراد انسانی کو بحیثیت فرد دی گئی ہے۔اس کے کمال نشو ونما کے لئے اس مادی دنیا میں ضروری چیزیں پیدا کر دی گئی ہیں ورنہ تو یہ سارا سلسلہ کا ئنات ایک مذاق بن کر رہ جاتا۔خدا تعالیٰ بندہ سے کہتا یہ لے قوت اور اس کی نشو ونما کر۔وہ کہتا اے میرے رب! مجھے اپنی قوت کی نشو ونما کے لئے فلاں چیز کی ضرورت ہے۔تو اگر اللہ تعالیٰ اسے یہ جواب دیتا کہ وہ تو میں تجھے نہیں دوں گا تو پھر تو یہ ایک مذاق بن جاتا حالانکہ اللہ تعالیٰ تو مذاق نہیں کرتا وہ تو کہتا ہے میں نے اس دنیا کوکھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ، یہ دنیا لہو ولعب نہیں ہے۔غرض ایک طرف قو تیں پیدا کیں تو دوسری طرف ان کی نشوو نما کے لئے ضروری سامان بھی پیدا کر دیے۔انسان اپنی خدا داد قوتوں کی نشو ونما کرتا ہے۔پھر نشو و نما کر کے انہیں کسی لوہے کے صندوق میں بند تو نہیں کر دیتا اسے جو بھی قوتیں ملی ہیں وہ باہر نکل رہی ہوتی ہیں مثلاً ہماری قوت بینائی ہے۔اگر ہم روئی بھر کر پیڈ بنا کر اپنی آنکھوں پر باندھ دیں تو ظاہر ہے ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آئے گا کیونکہ ہماری یہ قوت بینائی مادی دنیا کے ملاپ سے کچھ حاصل کرتی ہے۔یہ ایک قوت ہے جو مادی دنیا کے ملاپ سے کام دیتی ہے۔مثلاً روشنی کی کرنیں ہیں۔آنکھ کے اندران سے عکس حاصل کرنے کی طاقت ہے دونوں کا ملاپ اس کو بینائی دے رہا ہے۔پس جس طرح ہم آنکھیں بند نہیں کیا کرتے نہ کانوں میں روئی ٹھونسا کرتے ہیں نہ دوسرے مادی حواس کو معطل کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں الْحَمْدُ لِلَّهِ۔ہمیں خدا تعالیٰ نے قوتیں دی ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ کہنا تو تب مناسب ہوتا جب ان کا صحیح اور کامل استعمال ہوتا اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو طاقتیں اور استعدادیں دی ہیں جتنا جتنا ہم ان کا استعمال کرتے اور ان کی نشو و نما کرتے چلے جاتے ہیں اتنا اتنا وہ چشمہ سے بہنے والے پانی کی طرح خود ہی