خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۵ خطبه جمعه ۱۱ را گست ۱۹۷۲ء کہ جو شخص رضائے الہی کے حصول کے لئے تجھ سے حسن سلوک کرتا ہے اس سے اس کا فضل ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح نسل کے معنے چھوڑ دینے کے بھی ہوتے ہیں مثلاً جب شہد اپنے چھتے سے خود بخود نکلے تو اس شہد کو النسيلة کہتے ہیں یعنی اس کو آگ کے اوپر گرم کر کے نہیں نکالا جا تا بلکہ بعض دفعہ وہ خود بخود بہہ نکلتا ہے۔ہمارے پاس بہت سارے دوست شہد لے آتے ہیں یا ہم خود اپنے باغ سے چھتے اترواتے ہیں۔چنانچہ ہم شہد نکالنے کے لئے یہ آسان طریق اختیار کرتے ہیں کہ ایک ململ کے کپڑے میں چھتے کا شہر والا حصہ باندھ کر لٹکا دیتے ہیں اور نیچے برتن رکھ دیتے ہیں۔اس طرح شہد اپنے ہی وزن سے کشش ثقل کی وجہ سے بہ نکلتا ہے غرض جس شہد کو نکالنا نہ پڑے بلکہ خود بخود بہہ نکلے۔اس کو ”نسيلة “ کہتے ہیں۔اسی طرح جب دودھ دینے والے جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکالا نہ جائے بلکہ خود بخود بہہ نکلے تو ایسے دودھ کو النِّسَلُ “ کہتے ہیں۔بعض عورتوں کے پستان سے بھی دودھ بہہ نکلتا ہے اور کپڑوں کو خراب کر دیتا ہے عورتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے کپڑے خراب ہو گئے اسی طرح بھینس یا بکری کا دودھ بھی بعض دفعہ خود بخو دگر تا رہتا ہے۔پس اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز جو خود بخود علیحدہ ہو جائے وہ’نسيلة“ کہلاتی ہے۔اس جگہ نسل کے معنے ہوں گے کہ انسان کی وہ قوتیں اور طاقتیں جن سے اس کے اعمال خود بخود فطری بہاؤ کے ساتھ سرزد ہوتے ہیں مثلاً ایک صاف شفاف اور ٹھنڈے اور لذیذ پانی کے چشمے سے جس طرح پانی خود بخود بہہ نکلتا ہے اسی طرح انسان کے اعمال اس کی طاقتوں سے خود بخود بہہ نکلتے ہیں۔یعنی ایک تو ہے اہلیت اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے صلاح میں اہلیت کا بھی سوال ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو طاقتیں دی ہیں وہ ایک اہلیت کا رنگ رکھتی ہیں جو انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے اس قوت اور استعداد کے ساتھ اس دنیا میں دو سلوک ہوتے ہیں اگر چہ یہ چار قسمیں ہیں لیکن ہم قوت اور استعداد مراد لیں گے۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں پیدا کیا اور اسے ایک مخصوص دائرہ کے اندر ایک با اختیار وجود کی حیثیت عطا فرمائی۔اس کے لئے ثواب اور گناہ ، جزا اور سزا مقرر فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے