خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 343 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 343

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۳ خطبه جمعه ۱۱ را گست ۱۹۷۲ء یہ سارے معنے امام راغب نے کئے ہیں نیز وہ لکھتے ہیں: "كَمَا أَنَّ بِالْأَرْضِ زَرْعُ مَا بِهِ بَقَاءُ أَشْخَاصِهِمْ یعنی زمین مادی ذرائع پیداوار کی علامت ہے۔سورج کی شعائیں زمین کے اندر جذب ہونے کے بعد ہمارے کام آتی ہیں۔زمین سے مراد یہ سارا کرہ ارض اور اس کی ہوا وغیرہ ہے اسے قرآن کریم کی رو سے الارض کہا جاتا ہے اور یہ ذرائع پیداوار کی ایک علامت ہے۔پس قرآن کریم نے زمین کو ذرائع پیداوار کی ایک علامت ٹھہرایا ہے۔چنانچہ ان معنوں کی رو سے حرث سے یہ مراد لی جائے گی کہ زمین سے ایسا کام لیا جائے جس سے انفرادی اور اجتماعی بقاء کے سامان پیدا ہو جائیں۔اس کو اصل میں حرث کہتے ہیں۔اب زمین سے کام لینے کا مطلب یہ ہے انسان کی جو جسمانی طاقتیں ہیں انکی کمال نشو و نما کے لئے ذرائع پیداوار سے کام لیا جائے کیونکہ جب تک انسان کی جسمانی طاقتیں اپنے نشوونما کے کمال تک نہیں پہنچتیں اس وقت تک دوسری صلاحیتیں اور استعدادیں مثلاً ذہنی ،اخلاقی اور روحانی استعدادوں کی نشو و نما ممکن ہی نہیں جسمانی طاقت دوسری استعدادوں کے پنپنے کے لئے بنیاد کا کام دیتی ہے مثلاً انسانی جسم میں دماغ کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو ایسے شخص کو ہم کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہو گیا ہے۔اس خاص قسم کی خرابی کے نتیجہ میں نہ وہ ذہنی نشو و نما حاصل کر سکتا ہے نہ اخلاقی اور روحانی نشو و نما حاصل کر سکتا ہے یا جب کوئی شخص لنگڑا ہو جائے یا کسی اور وجہ سے معذور ہو جائے تو وہ جسمانی طاقتوں کے نشو ونما نہ پانے کی وجہ سے ذہنی اور اخلاقی استعدادوں کی نشو ونما سے ایک حد تک محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً ایسا شخص جہاد میں شامل نہیں ہوسکتا۔وہ جہاد کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔جہاد میں شامل نہ ہو کر انسان صرف اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو ونما ہی سے محروم نہیں ہوا وہ ذہنی قوتوں کی نشو و نما سے بھی محروم ہو گیا۔انگریزی کا محاورہ ہے You live to learn ( یو لوٹولرن ) یعنی زندگی کا ہر مشاہدہ ہمارے لئے بڑا اہم ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لئے معلم کے طور پر بنایا ہے۔ہمارا مشاہدہ