خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 331
خطبات ناصر جلد چہارم ٣٣١ خطبہ جمعہ ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ء کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔مجھے کچھ چکر آتے ہیں اس لئے میں اس مضمون کی مختصراً تمہید ہی آج بیان کرسکوں گا میں نے فساد کے معنے بتا دیئے ہیں۔میں نے صلاح کے معنے بھی بتا دیئے ہیں۔جب ہم بہت ساری چیزیں اکٹھی سامنے رکھتے ہیں تو حقیقتا اور انجام کارآخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ فساد صلاح کی ضد ہے۔صلاح کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی اہلیت رکھنا اور فساد کے معنے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے سے نفرت کرنا۔اس کے لئے کوشش بھی نہ کرنا بلکہ اس کے الٹ کوشش کرنا۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات ہمیں نظر آ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یہ ہیں میری صفات تم ان کے مظہر بنو مثلاً صفت خالقیت ہے تم مختلف چیزیں ایجاد کرو تو اس کے مظہر بن جاؤ گے۔سائنسدان جو کسی نہ کسی چیز کے موجد ہیں وہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر ” خالق کی صفت کے مظہر بن رہے ہیں۔مگر انسان حقیقی طور پر اس معنی میں تو خالق نہیں بن سکتا جس معنی میں اللہ تعالی خالق ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت کا کوئی بھی مثل نظر نہیں آتا۔یہاں تک کہ انسانی عقل بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا حقیقی تصور نہیں کر سکتی۔بہر حال انسان اپنے دائرہ کے اندر خالق بھی بن سکتا ہے۔رازق بھی بن سکتا ہے۔وہ اپنے دائرہ کے اندر مالک بھی بن سکتا ہے رب بھی بن سکتا ہے وہ اپنے دائرہ استعداد کے مطابق رحمان بھی بن سکتا ہے اور رحیم بھی بن سکتا ہے انسان جب باپ بن جاتا ہے تو وہ ایک لحاظ سے رحمان بھی بن جاتا ہے۔اس کا دو مہینے کا چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔جب رات کو اٹھ اٹھ کر اس کے آرام اور دودھ کا انتظام کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ بچے کے کس عمل کی جزا دے رہا ہوتا ہے جس وقت وہ بچہ جوان ہوتا ہے اور عمل کرنا شروع کرتا ہے تو پھر وہ اس کے لئے رحیم بن جاتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے انسانی فطرت میں ظاہر ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا کے نیک بندے اپنی فطرت کے مطالبے کو روحانی مطالبہ بنا کر اس پر عمل کر رہے ہوتے ہیں یعنی وہ جو کام کرتے ہیں صفات باری کی پوری معرفت اور عرفان کے بعد کرتے ہیں ورنہ تو ایک دہر یہ بھی اس فطرت سے مجبور ہو کر کبھی رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے اور کبھی رحیمیت کے جلوے بھی دکھا تا ہے لیکن ایک کامل مومن