خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 192 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 192

خطبات ناصر جلد چهارم ۱۹۲ خطبه جمعه ۲۸ را پریل ۱۹۷۲ ء بھی غلط ہے کیونکہ کاغذی گھوڑے دوڑانے کے ساتھ تو کامیابی نہیں ہوا کرتی۔پھر بعض جگہ میں نے دیکھا ہے کہ غلط عمل کرتے ہیں اور غلط عمل کی وجہ سے نتیجہ صحیح نہیں نکلتا اور نہ پھل پیدا ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوشش تو بڑی کی مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ کوئی مذہبی جماعت انکار کر سکتی ہے کہ جب سے انبیاء کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے لے کر آج تک انسان نے یہی دیکھا کہ جب خلوص نیت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدبیر کے ماتحت کام کیا جاتا ہے جس تدبیر میں دعا بھی شامل ہو تو وہ کام بے نتیجہ نہیں رہ سکتا۔کبھی خدا تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنے حکم اور غلبہ اور عزت کے ثابت کرنے کے لئے ایک مثال قائم کر دیتا ہے کہ کوشش کا نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور پھر چھن جاتا ہے۔انفرادی طور پر بھی ایسا ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی لیکن اس میں بھی حکمت ہوتی ہے اور کوئی سبق دینا مقصود ہوتا ہے کوئی اور غفلت ہوتی ہے جسے دور کرنا مقصود ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا عام قانون یہی ہے کہ اگر اس کے بتائے ہوئے طریق پر اور اس کے قائم کردہ قانون کے مطابق کوشش کرو گے تو پھل پاؤ گے۔یہ عام قانون ہے۔ناکام ہونے والوں کی غلطی اپنی ہوتی ہے اور سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ۔ہمیشہ ہر نا کا می اپنی طرف منسوب کرو اگر تم نے کامیاب ہونا ہے تو اپنی اصلاح کی کوشش کرو اور محاسبہ کرو۔نفس کا بھی محاسبہ اور جماعتی تنظیم کا بھی محاسبہ کوئی کمزوری یا غفلت یا بے ثمر ہونا خدا کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔پس اسے اپنی طرف منسوب کرو اور اس کو دور کرنے کی کوشش کرو۔مجھے تو بڑا سخت غصہ آتا ہے اگر میرے سامنے کوئی ایسی بات کرے کہ ہم نے تو کوشش کی تھی مگر نتیجہ کوئی نہیں نکلا۔نعوذ باللہ گو یا اللہ تعالیٰ بڑا ظالم ہے جس نے کوئی نتیجہ نہیں نکالا۔یہ تو ناممکن بات ہے اب ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہمارے دل میں جو اللہ تعالیٰ کا پیار ہے اور ہمیں صفات باری کی جو معرفت حاصل ہے وہ اس کی نفی کرتی ہے۔پس تمہاری کوشش کے نتیجہ میں جو نا کا می پیدا ہوئی ہے وہ تمہاری بد عملی اور کم عقلی کا نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔اگر تم خدا کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق کام کرو