خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 193

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۳ خطبه جمعه ۲۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ ء گے۔حسن عمل ہو گا جو دعا کے ستونوں کے اوپر کھڑا ہو گا۔پھر نا کامی کا سوال ہی نہیں اور رفعت یقیناً حاصل ہو جائے گی لیکن اگر تم بظاہر حسن عمل کرو اور دعا کے ستون اس کے لئے تیار نہ کرو تو وہ بلندی تمہیں نہیں ملے گی اور کامیابی تمہارے نصیب میں نہیں ہوگی لیکن جیسا کہ خدا نے کہا اِسْتَعِينُوا بالصبر والصلوة کہ ایک مسلسل اور نہ تھکنے والے عمل اور دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا تمہیں مل جائے گی۔ہم اس کو فلاح کہتے ہیں اور ہماری کوششوں کا یہی پھل ہے صرف سمجھانے کے لئے نام مختلف رکھے جاتے ہیں۔پس ایک تو مالی قربانیوں کے سلسلے میں جو کامیابیاں ہوئیں یا ناکامیاں ہوئیں، جو غفلتیں ہوئیں یا جو کمزوریاں ہمیں نظر آئیں، یہ سب کچھ ہمارے سامنے آنا چاہیے اور دوسرے ہمیں ایک نیا عہد باندھنا چاہیے کہ اگلے سال ایسا نہیں ہو گا اور ہم اپنے بھائیوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث نہیں بنیں گے بلکہ ان کے لئے سہولتوں کا باعث بنیں گے۔جماعت احمدیہ کی جو اجتماعی جدو جہد ہے اس میں مالی قربانیاں ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔جماعت کی طرف سے جو ایک جہاد شروع ہے اور ایک عمل کا پروگرام جاری ہے، دُنیا کبھی اس کو منصوبہ کہتی ہے اور کبھی کچھ کہتی ہے لیکن میں کہوں گا کہ ہر ایک پہلو سے اپنے رب کے حضور ہماری جو عا جزا نہ پیشکش ہے مالی قربانی تو اس کا صرف ایک نقطۂ نگاہ ، ایک زاویہ اور ایک پہلو ہے۔اس کے علاوہ جماعت کی ہزاروں ذمہ داریاں ہیں۔آپ مالی قربانی بھی حقوق اللہ کی ادائیگی کے لئے ہی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو تو مال کی ضرورت نہیں لیکن اس معنی میں کہ اس کے بندوں کو علم سکھا کر اور عقل دے کر اور قرآن کریم کے نور سے ان کے سینوں کو منور کر کے ان کے لئے ایسے سامان پیدا کریں کہ وہ خدا تعالیٰ کی حمد کریں اگر چہ اللہ تعالیٰ کا یہی حق ہے کہ ہم اس کے عاجز اور شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کو گزاریں لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ میری طاقت کی ضرورت ہے نہ اس کو میرے مال کی ضرورت ہے، نہ میری دولت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو اس حمد کی ضرورت ہے جو میری زبان سے نکلتی ہے غرض یہ کہ خدا تعالیٰ کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر اس کی رضا کو حاصل کرتے ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔یہ