خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 122

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۲ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء دامن کو پکڑا ہے جو سب قدرتوں کا مالک ہے۔جو سب دولتوں کا مالک ہے۔جو سب خزانوں کا مالک ہے۔جو حقیقی عزت کا سر چشمہ ہے اور ہر قسم کا غلبہ اُسی سے ملتا ہے۔غرض آپ نے بیداری کا جو مظاہرہ کیا ہے یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو فیق عطا فرمائی ہے اس پر آپ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور میری دعائیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو احسن جزاء عطا فرمائے۔جس چیز پر آپ کو ہمیشہ ہی عمل کرتے رہنا چاہیے وہ ہے عاجزی۔اس لئے آپ کو عاجزانہ را ہیں اختیار کرنی چاہئیں۔آپ کو چاہیے کہ کبھی ان راہوں سے اِدھر اُدھر نہ ہوں۔آپ یہ کبھی خیال نہ کریں کہ آپ کے اندر کوئی طاقت ہے یا کوئی خوبی ہے یا کوئی علم ہے۔غرض تکبر اور غرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو نہایت ہی عاجز بندے سمجھنا چاہیے۔اتنے عاجز کہ ہم میں سے ہر شخص یہی سمجھتا ہو کہ اس سے زیادہ کمزور اور کوئی نہیں۔اس سے زیادہ ناتواں اور کوئی نہیں۔اس سے زیادہ کم علم اور کوئی نہیں اور اس سے زیادہ بے عزت اور کوئی نہیں یعنی جہاں تک ذاتی عزتوں کا سوال ہے۔پس ہر احمدی میرے سمیت یہی سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ کمزور اور ذلیل اور ناکارہ اور تہی دست ہے لیکن اس تذلل اور عاجزی کے باوجود ہراحمدی نے اپنی زندگی میں اپنے زندہ خدا کی عظیم صفات کے جلوے دیکھے اور خود اپنی ذات میں محسوس کئے ہیں۔چنانچہ جب ہم نے علی وجہ البصیرت خدا تعالی کا دامن پکڑا تو ہمیں یہ تسلی ہو گئی کہ ہم سے کمزوریاں تو سر زد ہونگی لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے لئے حزن کے سامان نہیں پیدا کرے گا۔وہ ہمارے لئے رحمت کے سامان پیدا کرے گا دشمن جس رنگ میں بھی آئے ، جس طاقت کے ساتھ بھی آئے اس کا وہی حشر ہوگا جو ہمیشہ صداقت ، نیکی ، ہمدری اور خیر خواہی کے دشمنوں کا ہوا کرتا ہے۔پس آپ بھی اور میں بھی اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ہم کسی کو دکھ نہ پہنچا ئیں۔ہم کسی کی برائی نہ سوچیں۔ہم کسی کے لئے بددعا نہ کریں۔ہم کسی کے لئے برائی نہ چاہیں ہم کسی کا حق نہ ماریں بلکہ حق دلانے کی کوشش کریں اور جہاں تک ہمارا تعلق ہے جو دوسروں کے ہم پر حق ہیں اُن سے زیادہ ہم ان کو دے دیں تا کہ ہم اپنے رب سے بغیر حساب اجر کی امید رکھ سکیں۔اگر تم