خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 121

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۱ خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۲ء اس کا عرفان حاصل کریں۔اس کی صفات کے متعلق علم حاصل کریں ) اور پھر اس اعتقاد اور یقین پر مستقل مزاجی اور ثبات قدم کے ساتھ قائم رہنا یہ روحانی صحت کے لئے بھی بڑا ضروری ہے۔پچھلے جمعہ کو میں نے اپنے خطبہ میں منافقین کی بعض فتنہ پردازیوں کی طرف جماعت کو توجہ دلا ئی تھی اور اس قسم کے فتنے چونکہ جماعت کو بیدار کرنے اور بیدار رکھنے کے لئے بھی پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے میں خوش ہوں اور میرا دل خدا کی حمد سے لبریز ہے کہ اہالیانِ ربوہ کا وہی رد عمل ظاہر ہوا ہے جو ایک الہی سلسلہ کے افراد کا ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی احسن جزاء عطا فرمائے۔لیکن ہمیں تو یہ یاد ہے ہم بھولے تو نہیں کہ ہماری جماعت قانون شکنی نہیں کرتی۔تاہم قانون ہی نے خود حفاظتی کی ہمیں بہت ساری اجازتیں دے رکھی ہیں کیونکہ خود حفاظتی ہمارا انسانی حق ہے۔خود حفاظتی ہمارا اخلاقی حق ہے۔خود حفاظتی ہمارا قانونی حق ہے اور خود حفاظتی ہمارا شہری حق ہے۔غرض جو انسانی حقوق کا دائرہ ہے یا اخلاق کا دائرہ ہے یا قانون کا دائرہ ہے یا شہریت کا دائرہ ہے، اس دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنی خود حفاظتی کا انتظام کریں گے اور اس پر کوئی عقلمند انسان اعتراض نہیں کر سکتا لیکن ہم قانون شکنی نہیں کرتے اور نہ کبھی کریں گے لیکن اگر ہمارا مخالف یہ سمجھتا ہے کہ وہ سر جو عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکا رہتا ہے اس کا اس طرح جھکنا خشية الله کے نتیجہ میں نہیں بلکہ بزدلی اور کمزوری کے نتیجہ میں ہے تو وہ بیوقوف اور جاہل ہے۔ہمارا سر اپنے رب رحیم اور رب غفور کے حضور جھکا ہوا ہے اور خدا کرے کہ ہمارا سر اور ہماری آئندہ نسلوں کا سر ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کے حضور جھکا رہے۔لیکن بیوقوف ہے وہ شخص جو ہماری اس عاجزی کو ہماری کمزوری یا بزدلی سمجھتا ہے کیونکہ وہ شخص جس نے خود کو تہی دست سمجھ کر اور خود میں کوئی طاقت اور قوت اور خوبی نہ پا کر اُس خدا کے دامن کو پکڑا ہے جس کے اندر ساری قو تیں جمع اور جس میں ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں، وہ نہ بزدل ہو سکتا ہے اور نہ کمزور۔کیونکہ وہ تو حاکم اعلیٰ کے سایہ میں، پیار کرنے والے رب کی گود میں بیٹھا ہے۔وہ کمزوری کیسے دکھا سکتا ہے۔غرض یہ بزدلی اور کمزوری نہیں تاہم ہمارے سر ہمیشہ خدا کے حضور جھکے ہی رہیں گے کیونکہ ہم خدا کے عاجز بندے اور خود کو کچھ نہیں پاتے۔ہم بالکل تہی دست ہیں لیکن ہم نے اس خدا کے