خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 76
خطبات ناصر جلد چہارم ۷۶ خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۷۲ء بھی ہمیں بعض استثنائی صورتوں میں خیانت نظر آتی ہے کیونکہ ہر مذہب میں اور اسلام میں بھی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ہمیں منافق نظر آتے ہیں اور مذہبی لحاظ سے سب سے بڑا خائن منافق ہے۔جس آدمی نے اپنے رب کے ساتھ خیانت کی وہ اپنے بھائی کے ساتھ کیسے خیانت نہیں کرے گا ؟ بعض دفعہ میں سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ یہاں خیانت کا اتنا زور تھا کہ اگر ہم احمدیت کے وجود کو علیحدہ کر دیں تو ایک چھوٹی سی جگہ میں بھی مشکل سے کہیں امانت نظر آتی تھی۔اس حالت میں قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ خیانت صرف یہی نہیں ہوتی کہ کسی کے کچھ پیسے کھا لئے بلکہ اگر کام پورا نہ کیا جائے تو یہ کام میں خیانت ہے یا پھر ذمہ داری کی ادائیگی میں خیانت ہے پھر ذمہ داریاں محض حکومت کی یا قانون ہی کی نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔مذہبی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری یہ تھی کہ اسلام نے بھائی کو بھائی سے پیار کا حکم دیا تھا مگر بعض لوگوں نے اس میں بھی خیانت کی اور وہ اپنے بھائیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگ گئے۔چنانچہ حکومت نے پرسوں زراعت کے متعلق جس نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے اس پر بھی سٹ پٹارہے ہیں حالانکہ ان سے روزی تو نہیں چھینی گئی البتہ ان کے عیش کے کچھ حصے ہیں جنہیں کاٹ دیا گیا ہے۔۱۵۰ ایکٹر بڑی زمین ہے اگر اس میں پہلے سے زیادہ محنت کی جائے اور عقل سے اس سے فائدہ اُٹھایا جائے تو اس سے بھی بہت کچھیل جاتا ہے۔اس سے کہیں زیادہ مل جاتا ہے جتنا کہ اس اعلان سے ( جسے زرعی انقلاب کہا گیا ہے اس کے نتیجہ میں ) ان کروڑوں کو ملے گا جن کو آج تک تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔گواب بھی فرق ہے لیکن یہ صحیح ہے کہ اس سے عزت کی زندگی کے پہلے سے زیادہ سامان میسر آگئے اور آسودہ زندگی کے کچھ بہتر سامان پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ اب بھی جن لوگوں کے خاندان کے پاس آٹھ یا دس ایکٹر زمین رہے گی۔ان کو پھر بھی روکھی روٹی کھانی ہے لیکن الا ما شاء اللہ وہ ان کی حقارت کی نگاہ سے محفوظ ہو جائے گا۔پس اسلام نے تو سب کو برابر کر دیا تھا چنانچہ جہاد کے ایک سفر میں ایک موقع پر کھانے کی تنگی کے پیش نظر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ ساری کھجور میں لے آؤ۔