خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 72

خطبات ناصر جلد چہارم ۷۲ خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۷۲ء پس انبیاء علیہم السلام کے سچے متبع قوی بھی ہوتے ہیں اور امین بھی۔یعنی وہ ہر قسم کی قوت کو ترقی دیتے ہیں اس کی نشوونما کرتے ہیں اور اس طرح اپنے دائرہ میں ایک حسین ترین وجود بن جاتے ہیں۔جہاں تک امانت کا تعلق ہے یہ تو دنیا نے انبیاء علیہم السلام سے سیکھی ہے اور خیانت اسوۂ نبوی سے دوری کا نام ہے۔آج پاکستان کو جو ذلت دیکھنی پڑی ہے، اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ امین نہ ہونا ہے یعنی امانت کا فقدان اور خیانت میں اتنی وسعت کہ تصور میں بھی نہیں آسکتی۔اگر یہ حال نہ ہوتا تو ہمیں آج یہ دُکھ برداشت نہ کرنا پڑتا۔پھر جہاں تک قوت کا تعلق ہے، اس کے بعض پہلو ورزش سے نشو و نما پاتے ہیں۔اس لئے جسمانی ورزش کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔جو ان کو بھی اور بوڑھے کو بھی۔( بوڑھا تو میں کسی کو نہیں کہا کرتا اس لئے میں کہوں گا) جو ان کو بھی اور جوانوں کے جوان یعنی انصار اللہ کو بھی۔مرد کو بھی اور عورت کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے۔کبھی تو جہ ہو جاتی ہے کچھ اور کبھی بھول ہو جاتی ہے بہت سی۔اس لئے چند دن ہوئے بچوں کے ایک اجتماع میں میں نے ایک اعلان کیا تھا۔میں آج اسے دُہرانا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ساری جماعت کی ذمہ واری ہے۔میں نے اُس اعلان میں بچوں سے یہ کہا تھا کہ تم ربوہ میں کھیلوں کو منظم کرنے کا کام سنبھالو کیونکہ اس انتظام میں اکثر نو جوان ہی آگے آئیں گے اور ان کو میں نے اس انتظام کی یہ شکل بھی بتائی تھی کہ دو نمائندے تعلیم الاسلام کالج کے، دو جامعہ احمدیہ کے، دو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے، دو خدام الاحمدیہ کے اور دو انصار اللہ کے مل کر سر جوڑیں اور ایسا انتظام کریں کہ ربوہ کا ہر شہری روزانہ ورزش کیا کرے۔ورزش کے لئے باسکٹ بال کھیلنا ہی ضروری نہیں ہے۔سب سے اچھی اور سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ کی جانے والی ورزش تو سیر ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت بھی ہے۔اس لئے ربوہ کے دوست روزانہ سیر کے لئے چاروں طرف نکل جایا کریں۔میں جب آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا تو ہمارا Balliol کالج Active (ایکٹو ) ہونے