خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 65
خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء اس لئے کہ جس سر نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے یا جس دماغ نے اسلام کو مٹانے کے متعلق سوچا تھا ، اس کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا مگر اسلام ختم نہیں ہوا۔غرض اس دور میں اُمت محمدیہ نے جب کہ وہ ایک چھوٹی سی اُمت تھی اور بڑے نازک دور سے گزر رہی تھی اس وقت اپنی ذمہ داریوں کو ان کے تمام اجزا کے ساتھ نباہا اور انتہائی قربانیاں دیں۔پس واقعہ میں انہوں نے اس حکم پر عمل کیا اور فرغت کی رو سے ایک دور کی قربانیوں کو انتہا تک پہنچا کر فانصب کے حکم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اگلے دور کی طرف متوجہ ہو گئے۔یعنی بدر کی جنگ جس میں پہلے دور کی انتہا اور انجام تھا اور نہایت شاندار انجام تھا اور خدا تعالیٰ کی محبت کا ایک عظیم الشان اظہار تھا۔اُس وقت گویا ایک دور ختم ہوا۔اگلا حکم کیا ہے! آرام سے بیٹھو اور سو جاؤ تمہیں مزید قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں۔فرمایا فانصب۔ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔اس دور میں بھی انتہائی جدو جہد کرنی پڑے گی اور جہاد سے کام لینا پڑے گا اور رفعتوں اور مضبوطی کے سامانوں کے لئے کوشش کرنی پڑے گی۔غرض اس طرح اُمت محمدیہ کی فردی اور اجتماعی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔پہلے دور کے بعد دوسرا، پھر تیسرا، پھر چوتھا وَ عَلى هذا القیاس۔لیکن جس وقت امت محمدیہ نے فَرَغْت پر عمل کیا لیکن فَانْصَبُ پر عمل نہیں کیا وہ سمجھے کہ ہم ساری دنیا کے حاکم بن گئے ، اب ہمیں فانصب پر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے تو تباہ ہو گئے، مثلاً پین اسلامی سلطنت کا ایک حصہ تھا اور اس پر مسلمان حکومت کرتے تھے ،مگر کجا یہ کہ طارق کی فوج بارہ ہزار کے قریب تھی اور اس نے سپین میں جا کر ایک لحاظ سے سارے یورپ کے ساتھ ٹکر لی اور انتہائی قربانی دی۔وہاں سمندر کے ساحل پر کشتیاں نہیں جلائی گئی تھیں وہاں خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت کے شعلے بھڑ کے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ دنیوی قربانیاں کیا چیز ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے شعلوں میں ہر چیز کو جلا دیتے ہیں تا کہ ہمیں اس کے پیار کی ٹھنڈک ملے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے پیار کی ٹھنڈک پہنچائی۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے سامنے عیسائی فوج نہیں ٹھہری اور وہ شکست کھا گئی حالانکہ سارے یورپ والے مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے۔خود سپین کے عیسائی بادشاہ کے پاس بے تحاشا