خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 64
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۴ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء پھر حج ہے یہ بھی اصل میں تو ایک دفعہ ساری عمر میں فرض ہوتا ہے گو یا ساری زندگی میں ایک دور اس کا آتا ہے لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرماتا ہے وہ ایک سے زائد دفعہ بھی حج کرتے ہیں۔بہر حال عبادت کے لحاظ سے بھی میں جس چیز کو اچھی طرح واضح کر کے بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مختلف دور ہیں کسی چیز کا دور ایک دن سے تعلق رکھتا ہے۔کسی کا ایک سال سے تعلق رکھتا ہے۔کسی کا ساری عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔سال سے تعلق رکھنے والا دور مثلاً زکوۃ بھی ہے۔اس کا تعلق گو سال کے ختم ہونے سے ہے لیکن خرچ کرنے کے لحاظ سے ایک دور ایسا آ جاتا ہے کہ دو دن کے بعد بھی ضرورت پڑ سکتی ہے مثلاً جہاد کے لئے مال دینا چنا نچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو جنگیں لڑی گئی ہیں ، ہر جنگ کے وقت یہ اعلان کیا جا تا تھا کہ مالی قربانی دو اور جانی قربانی دو کوئی ایک ہفتہ کے بعد جنگ ہوئی۔کوئی ایک سال کے بعد جنگ ہوئی۔کوئی لمبے عرصے کے بعد اور کوئی تھوڑے عرصے کے بعد جنگ ہوئی یعنی مختلف جنگوں کے درمیان ایک جیسا وقفہ نہیں ہے۔پھر ایک اور دور ہے جو پورے کا پورا مظلومیت کا دور نظر آتا ہے۔یعنی مکی زندگی کا پورا ایک دور ہے اور کیونکہ مسلمانوں نے اس دور میں فرغت پر عمل کیا تھا یعنی اس دور مظلومیت کی زندگی میں عاید ہونے والی ذمہ داریوں کو انہوں نے پورے طور پر ادا کر دیا تھا۔اُن کا کوئی جز وایسا نہیں تھا کہ جس کو انہوں نے نظر انداز کر دیا ہو اور ادا نہ کیا ہو۔غرض انہوں نے اپنی قربانیوں کو مکمل بنادیا تھا چنانچہ ان کا نتیجہ شاندار کامیابی کی شکل میں نکلا۔گواس کامیابی میں بہت ساری اور چیزیں بھی شامل تھیں لیکن اس ایک خطبہ میں ان کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی لیکن ایک شکل جو بڑی نمایاں تھی وہ یہ تھی کہ مکہ کے ظالم سرداران نے مکہ سے باہر نکل کر جنگ کے ذریعہ اسلام کو مٹانا چاہا تو اپنا سر اور دھڑ چھوڑ کر وہ قوم واپس مکہ کو لوٹی۔ان کے بڑے بڑے سردار اس جنگ میں مارے گئے تھے جس طرح خواب میں یا کہانیوں میں بے دھڑ کے انسان کا منظر دکھائی دیتا ہے یعنی بعض دفعہ بغیر سر کے دھڑ چلنا شروع کر دیتا ہے۔حقیقتا کفار مکہ بغیر دھڑ کے واپس لوٹے