خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vi of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page vi

IV سر جوڑ کر ایک ابتدائی سکیم بنا دینی چاہیے۔اگر آپ کو ( یعنی اراکین مجلس کو ) ضرورت ہو تو مجھے بھی 66 ساتھ لے جائیں اور ساری Open Places (اوپن پلیسز دکھا ئیں۔“ ۲ ۱۰ مارچ ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کی اہمیت اور برکات پر عظیم الشان تاریخی خطبہ ارشاد فرما یا حضور نے فرمایا:۔بڑی سہولت سے انتخاب عمل میں آیا اور جس کے نتیجہ میں خلافت کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی۔میرے تو وہم و گمان میں بھی کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے اتنی بھاری ذمہ داری کے نیچے رکھے گا جو کچل دینے والی ہے۔لوگ اس کو مذاق سمجھتے ہیں مگر یہ اتنی بھاری ذمہ داری ہے کہ میں سمجھتا ہوں کوئی آدمی اپنے ہوش و حواس میں ایک لمحہ کے لئے بھی اس ذمہ داری کو اُٹھانے کی خواہش نہیں کر سکتا۔اور جہاں تک میرا تعلق ہے۔میں اُس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کی جھوٹی قسم کھانالعنتیوں کا کام ہے اس مسجد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے بڑے پیار سے فرمایا:۔وو يدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ “ پس میں خلیفہ اس لئے نہیں ہوں کہ تم میں سے کسی گروہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔میں خلیفہ اس لئے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور خلیفہ بنایا اور پیار کے ان الفاظ سے یاد فرمایا ہے۔غرض خلیفہ خدا ہی بنایا کرتا ہے۔انسانوں کا یہ کام ہی نہیں اور جن کو خدا خلیفہ بناتا ہے وہ انسانوں کے کام پر تھوکتے بھی نہیں اور نہ اُن کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔خلافت حقہ اصولی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے پہچانی جاتی ہے۔“ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کا ذکر۔کرتے ہوئے فرمایا:۔' آج ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے اس لئے بھی لبریز ہیں کہ اُس نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کے بہت سے دوستوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے اس مسجد کے لئے مال بھی دیا ، وقت بھی دیا، تو جہ بھی دی اور محنت بھی کی اور ساری جماعت نے دعائیں بھی کیں۔جس کے نتیجہ