خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 555
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء نہیں کرنی ہم نے اپنے حالات کے مطابق اس سلسلہ میں ایک اور عمل صالح بجالا نا ہے اور وہ اس طرح ہوگا کہ آپ باہمی طور پر ایک دوسرے سے مشورہ کریں کچھ ڈاکٹروں کے متعلق تعصب ہوتے ہیں کچھ بیماریوں کے متعلق تعصب ہوتے ہیں کچھ دواؤں کے متعلق تعصب ہوتے ہیں ان کو ذہن سے نکالنا پڑے گا اور ہر احمدی کی صحت کو حتی المقدور ( یعنی جتنی خدا نے ہمیں طاقت دی ہے اور سامان دیئے ہیں) بہترین رکھنا پڑے گا۔اگر انہوں نے وہ ذمہ داری نباہنی ہے جو سخت ترین ہے اور ان پر ہاں ہاں صرف ان پر ڈالی گئی ہے تو پھر ہمیں اپنے حالات کے مطابق سوچنا اور عملی قدم اٹھانا پڑے گا۔چین کے حالات ہمارے حالات سے مختلف ہیں اس واسطے ہم چین کی نقل نہیں کر سکتے نہ صرف ہمارے حالات ان سے مختلف ہیں بلکہ ہماری عقلیں بھی ان سے مختلف ہیں۔جو صحیح رنگ میں احمدی ہیں دنیا داروں کے مقابلہ میں ان کی فراست زیادہ ہونی چاہیے گو عام طور پر اب بھی ہے لیکن جہاں کمزوری ہے اس کمزوری کو دور ہونا چاہیے کیونکہ تھوڑی جگہ کمزوری ہوتی ہے اور بہت جگہ نقصان پہنچاتی ہے مثلاً کسی گھر کی بنیاد میں دوفٹ کمزوری آجائے تو وہ ساری دیوار خراب ہو جائے گی خواہ وہ دیوار کتنی پختہ ہی کیوں نہ ہو۔پس کمزوری کو تھوڑا سمجھ کر یا اسے تھوڑا دیکھ کر خاموش نہیں ہونا چاہیے یہ ایک کمزوری ہے کہ بعض دوستوں کا پوری طرح علاج نہیں ہو پایا۔یہ ایک کمزوری ہے کہ صحت قائم نہیں رکھی جاسکی۔اس کے نتیجہ میں اور بہت کچھ سامنے آئے گا مثلاً متوازن غذا کا مسئلہ ہے غذا کے ہضم کرنے کا مسئلہ ہے اور اخلاقی صحت کے قیام کے لئے بہت کچھ کرنے کا مسئلہ ہے وہ آہستہ آہستہ اب بھی حل ہو رہا ہے۔لیکن زیادہ وسعت کے ساتھ ان کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو احمدی ناتجربہ کار ہے اور انکی تعداد زیادہ ہو رہی ہے اور اس وقت نا تجربہ کار احمدی سے میری مراد وہ احمدی ہے جو احمدی کے گھرانہ میں پیدا ہوا وہ ماں کے پیٹ سے کوئی تجربہ لے کر نہیں آیا وہ نا تجربہ کار ہے اس کے تجربہ حاصل کرنے کے سامان آپ نے پیدا کرنے ہیں۔پس ہمارے کام میں ایک وسعت پیدا ہو رہی ہے ہمارے مسائل بدل رہے ہیں دس سال پہلے جو ہمارے مسائل تھے وہ اب نہیں رہے۔اندرونی تربیت کے لحاظ سے بھی اور بیرونی تبلیغ اور اصلاح وارشاد کے لحاظ سے بھی پہلے جو ہمارے مسائل تھے وہ اب بدل چکے ہیں۔