خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 548
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۸ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء ہیں اور تھے کہ جنہیں علاج نصیب نہیں ہوا۔بعض مریض ایسے تھے کہ جن کے پاس ڈاکٹر بوجہ دُور ہونے کے جانہیں سکے اور ان کے خیال کے مطابق ( گو یہ ماننے والی بات نہیں لیکن بہر حال ان کی رپورٹ ہے کہ ) بعض ایسے مریض بھی تھے کہ جو اپنی غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا سکے۔۔ہم نے محلہ وارصدر صاحبان اور ان کی مجالس عاملہ کا انتظام کیا ہوا ہے۔اور ایک صد ر عمومی ہیں یہ انکے فرائض میں سے ہے کہ وہ محلہ کے رہنے والوں کی ضرورتوں کا خیال رکھیں اور ایک بڑی ضرورت (احساس کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں سب سے بڑی ضرورت ) یہ ہے کہ کسی گھر میں اگر کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج تسلی بخش طور پر ہونا چاہیے۔خصوصاًہمارے ربوہ کے وہ محلے جو ربوہ کی مشرقی سرحدوں پر ہیں۔ان کے متعلق یہ رپورٹ ہے کہ وہ اپنا علاج نہیں کروا سکتے مثلاً الف محلہ جو پہاڑیوں کے دامن میں ہے اور دار العلوم میں تو ہمارے غریبانہ معیار کے مطابق اکثر کھاتے پیتے لوگ ہیں۔تاہم الف محلہ کچھ غریب محلہ ہے۔میں نے مجلس صحت کے کام کے معائنہ کے لئے بھی ان محلوں کو دیکھا ہے۔الف محلے میں پانی کھارا ہے جو صحت کے لیے اچھا نہیں۔جس دن میں نے معائنہ کیا اُس دن ہنسی ہنسی میں اور مُسکراتے ہوئے میں نے ان کے دل کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے لیے پانی کا جلد انتظام ہونا چاہیے۔وہیں باتوں باتوں میں دو چیزیں میرے ذہن میں آئیں۔ایک کا تو میں نے وہاں اظہار کیا تھا کہ جو ساتھ کی پہاڑیاں ہیں اُن میں بعض ایسی پہاڑیاں بھی ہیں جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہو کر جب نیچے بہتا ہے تو بعض دفعہ نقصان بھی پہنچتا ہے۔میں نے کہا تھا ایسی جگہ کا سروے کر کے مجھے بتاؤ تا کہ وہاں بند باندھ دیا جائے جس میں بارش کا پانی اکٹھا ہو جائے گا اس بند کی وجہ سے پانی نیچے جذب ہوگا جس کے نتیجہ میں اس محلہ کے نلکوں کا پانی اچھا ہو جائے گا۔دوسرے جو پانی اکٹھا ہو کر بہتا ہے اور نقصان پہنچاتا ہے۔اس سے ایک حد تک حفاظت بھی ہو جائے گی اور پھر وہاں جو کھلی جگہیں ہیں وہاں درخت وغیرہ بھی کوئی نہیں۔کئی لوگوں نے اپنے گھروں میں تو درخت لگا رکھے ہیں لیکن باہر سڑکوں اور کھلی جگہوں پر درخت نہیں ہیں حالانکہ درخت صحت کے لئے ضروری ہیں۔