خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 544
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۴ خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۷۲ء کام کرنے والے ہیں اس لئے مجلس صحت کو اب پوری طرح بیدار رہنا چاہیے۔درختوں کے متعلق میں ایک بار پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریل اور سڑک پر بھی دو رویہ درخت ہونے چاہئیں۔علاوہ ازیں اور کئی جگہیں بیکار پڑی ہوئی ہیں مثلاً ہمارا جلسہ گاہ ہے اس کی حدود میں بالکل آخر میں دو دو درختوں کی ایک قطار ہونی چاہیے۔علاوہ اجتماعی فوائد کے باہر سے آنے والوں کو ان سے بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں مثلاً گرمیوں میں اگر کوئی دوست باہر کے گاؤں سے گھوڑی یا بچھیری پر سوار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے آئے تو وہ اپنے جانور کو درخت کے ساتھ باندھ دے گا یا اگر اس کے ساتھ کوئی غیر از جماعت دوست ہے تو وہ وہاں آرام کر سکے گا اگر کوئی عورت ہے جو ایسی حالت میں ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتی تو وہ درخت کے نیچے بیٹھ جائے گی۔اس وقت آپ نے کوئی ایسی جگہ نہیں بنائی جہاں آدمی آرام کر سکے۔غرض درختوں کے بے شمار فوائد ہیں یہ انسان کے ہزاروں کام آتے ہیں اس لئے نئے اور پرانے درختوں کی حفاظت از بس ضروری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سایہ دار اور پھلدار درختوں کے کاٹنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ قرآن کریم نے بھی اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے چنانچہ ایک موقع پر جنگ کے دوران انسان کی جان کی حفاظت کے لئے نہیں ! بلکہ ایک مسلمان کی جان کی حفاظت کے لئے (جس کی قیمت زیادہ ہے ) غالباً نو درخت کاٹنے پڑے تھے جس پر قرآنی وحی نازل ہوئی کہ یہ درخت ہمارے حکم سے کاٹے گئے ہیں۔غرض اتنی چھوٹی سی استثنائی صورت کا ذکر حکمت سے خالی نہیں ہے آخر نو درخت ہیں کیا چیز ؟ لیکن چونکہ اُمت مسلمہ کو یہ سبق دینا مقصود تھا کہ اتنی اہم ضرورت کے لئے نو درخت کاٹنے پر بھی اللہ کا الہام نازل ہوا۔گو اس طرح آئندہ کے لئے بوقت ضرورت درخت کاٹنے کی اجازت تو مل گئی لیکن اس سے بالواسطہ طور پر درخت خواہ وہ سایہ دار ہوں یا پھلدار ہوں ان کے نہ کاٹنے بلکہ نئے درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے میرے دل میں یہ شدید خواہش ہے کہ ہمارا ر بوہ ایک باغ بن جانا چاہیے۔آخر یہ افسوس ناک تفاوت اور اس کو دور کرنے کا خیال ہمارے پیش نظر کیوں نہیں رہتا کہ ہمارے جو بزرگ اس دنیا سے چلے گئے۔ان کی جو ابدی رہائش گاہ ہے اس کو تو ہم نے