خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 545

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۵ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء باغ بناد یا مثلاً قادیان کا بہشتی مقبرہ ہے یہاں ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں بھی درخت نکل رہے ہیں۔مگر جو زندوں کی رہائش گاہیں ہیں ان کو ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے حالانکہ اس دنیا میں تو زندوں کی رہائش گاہوں کی طرف بھی خاطر خواہ توجہ ہونی چاہیے تھی۔ابدی رہائش گاہوں میں درختوں اور پھولوں کے اپنے فوائد ہیں اس لئے یہ نہ ہو کہ کل کوئی لکڑ ہارا ہمارے بہشتی مقبرہ میں سے درخت کاٹنے شروع کر دے۔وہاں بھی درخت ہوں گے اور پھول اُگیں گے اور ماحول خوش نما اور خوشگوار ہوگا کیونکہ باہر سے جو لوگ آتے ہیں (جن میں بعض غیر از جماعت دوست بھی ہوتے ہیں ) ان کے دل پر اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔وہ دیکھتے ہیں قبروں کی سیدھی قطاریں بنی ہوئی ہیں درخت لگے ہوئے ہیں پھول اُگے ہوئے ہیں صفائی ہے خاموشی ہے اور فضا پر سکون ہے اور دعا کرنے کی کیفیت پیدا کرنے والا سماں ہے چنانچہ جو لوگ احمدی نہیں ہوتے وہ بھی خاص طور پر محسوس کرتے ہیں کہ واقعی یہ جگہ بہشت کا نمونہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ربوہ کا ہر گھر بھی اسی طرح بہشت کا نمونہ بن جائے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تو فیق ہی سے یہ ہوسکتا ہے۔بہر حال مجلس صحت کو اب زیادہ چوکس ہو کر کام شروع کر دینا چاہیے۔پہلی سٹیج میں سے ہم گزر گئے ہیں ایک سیڑھی ہم چڑھ گئے ہیں۔دوسری سیڑھی پر ہم چڑھ رہے ہیں مجلس کے کام کرنے کا یہی وقت ہے۔بہت سارے کام ایسے ہیں جو سردیوں میں ہو سکتے ہیں گرمیوں میں ان کا ہونا بڑا مشکل ہے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کاموں کے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کماحقہ توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۴ / جنوری ۱۹۷۳ء صفحه ۲ تا ۸)