خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 437
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۷ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء بندہ نے خدا کے حضور عاجزانہ التجا کی تھی کہ اے ہمارے ربّ کریم ! تیرے یہ بندے آگ کے کنارہ پر کھڑے ہیں۔تو اپنے فضل سے ان کو آگ سے بچا اور ان کی حفاظت کے سامان پیدا کر تو ان کے کان میں آسمان سے یہ آواز پڑی تھی اُيُّهَا الكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَارَ یعنی اے کفار فاسقوں کو قتل کرو۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ شدید العقاب بھی ہے چنانچہ بھی لوگوں کو عذاب دینے کے لئے آگ بھڑکتی ہے۔پس آگ خواہ کسی قسم کی ہو وہ نیک بندوں کو بظاہر جلانے کے لئے ناسمجھ ، جاہل اور خدا سے دور لوگوں کی طرف سے جلائی گئی ہو لیکن جو محبت کا نور بن گئی یا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کی آگ ہو۔ہر دوصورتوں میں اس سے بچنے کا طریق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں (۱) اعتصام باللہ اور (۲) تقوی اللہ بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اللہ کی حفاظت کو حاصل کرو تو اس آگ سے بچ جاؤ گے خواہ وہ خدا کے غضب کی آگ ہو یا مومنوں کا امتحان لینے کے لئے آگ جلائی گئی ہو۔ہر دوصورتوں میں یہ خدا تعالیٰ کی پناہ ہی ہے جو اس آگ کی تپش اور اس سے جھلس جانے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے زور بازو سے اس آگ سے محفوظ نہیں رہے تھے جو ان کو جلانے کے لئے بھڑکائی گئی تھی اور نہ ہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنی ذاتی قوت اور طاقت یا اپنی دولت اور اقتدار کے نتیجہ میں کفار کی بھڑ کائی ہوئی آگ سے محفوظ رہے تھے۔یہ تو خدائے ذو العرش کا فضل تھا جس نے یہ اعلان فرمایا تھا تبت یدا ابی لَهَبٍ وَتَبَّ ( اللهب : ٢) اللہ تعالیٰ نے ہر دو موقعوں پر فرشتوں کو بھیجا چنا نچہ حضرت ابراہیم کے لئے وہ آگ ٹھنڈک اور سلامتی کا باعث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامیابی اور ترقی کا ذریعہ بن گئی۔پھر اس نبی کی قوم نے ( یونس کی قوم ) جو ساری کی ساری خدا کے غضب سے محفوظ ہو گئی تھی اس نے تمثیلی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ) اپنے آنسوؤں سے خدا کے پاؤں کو دھویا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے ان کو قہری عذاب سے بچایا تھا۔پس ان آیات میں ایک چیز جو نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی تم اپنے آپ کو یا کسی اور کو آگ کے کنارہ پر کھڑا دیکھو گے تو اس آگ سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے