خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 438

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۸ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء جو تمہیں اپنی تاریخ میں بھی اور انسانی زندگی میں بھی نظر آئے گا اور وہ ہے اعتصام باللہ اور تقوی اللہ۔اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان چمٹ جائے اور اس کی پناہ میں آجائے اور وہ انسان کا ذمہ لے لے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کسی کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے؟ اگر انسان خدا کو اپنی ڈھال بنالے تو دشمن کے تیر اس تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ کی ڈھال کو چھیدنے والا کوئی تیر اس دنیا میں پایا جاتا ہے؟ نہیں ، ہرگز نہیں۔پس اس وقت حالات بتا رہے ہیں اور ہر صاحب فراست کو یہ نظر آ رہا ہے کہ ہماری قوم شعلہ زن آگ کے کنارہ پر کھڑی ہے ان حالات میں ہماری دوہری ذمہ داری ہے۔ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالی سارے کے سارے پاکستانی شہریوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ قرآن کریم کی اس تعلیم کو سمجھیں کہ بھڑکتی ہوئی آگ سے بچانا صرف خدا کا کام ہے۔پس یہ آگ جو اس وقت ملک میں بھڑک رہی ہے خدا کرے لوگوں کو یہ نظر بھی آنے لگ جائے اور یہ حقیقت بھی ان پر عیاں ہو جائے کہ اس آگ سے سوائے خدا کے اور کوئی نہیں بچا سکتا اور پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔اس کی باتوں کو سنیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔دوسری ذمہ داری ہماری اپنی جماعت کی ہے کیونکہ اگر ملک میں آگ لگے تو ہماری جماعت بھی چونکہ ملک اور قوم کا ایک حصہ ہے اس کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔اس لئے میں اپنی جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ تم اپنی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے اپنے ماحول کی حفاظت کے لئے اور ان نعماء کی حفاظت کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے محض احسان کے نتیجہ میں عطا فرمائی ہیں اور جن کا کوئی شمار نہیں ہے عاجزانہ طور پر اپنے رب کریم کے حضور جھکو اور اپنے آنسوؤں سے اس کے قہر کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرو اور خدا سے ذاتی تعلق پیدا کر کے اس کی گود میں اپنے لئے جگہ بناؤ تا کہ اس کا پیار اور اس کی رحمت جوش میں آئے اور جو کامیابیاں اس کے بندوں کے لئے مقدر کی گئی ہیں ( جن کی طرف ان آیات میں بھی اشارہ ہے وہ کامیابیاں ) ہمارے حصہ میں بھی آئیں ہمارے مقدر میں بھی ہوں۔ان آیات میں جو دوسری بات نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص