خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 434
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۴ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء دشمن تھے۔اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارہ پر تھے مگر اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات ( و ہدایات ) کو بیان کرتا ہے تا کہ تم ( راہ ) ہدایت (اور صراط مستقیم پر چل کر کامیابیوں ) کو پالو۔میں نے پچھلے خطبہ میں چند دعائیں کرنے کی بھی تحریک کی تھی۔ان میں سے ایک دعا کی تحریک یہ تھی کہ دوست اپنے ملک کے استحکام اور بقا نیز شر پسندوں کی شرارتوں سے بچاؤ کے لئے دعا کرتے رہیں۔اس وقت ہمارے ملک کے دشمنوں کے منصوبے اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔جولوگ بظاہر ملک کے دوست ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں بھی وطن کی وہ محبت نہیں پائی جاتی کہ جس کے نتیجہ میں قو میں پنپتی اور ترقی کرتی ہیں چنانچہ ذاتی مفاد اور ذاتی رنجشوں کی پرواہ زیادہ ہے اور ملک کے اتحاد اور یک جہتی کی پرواہ کم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ایک لمبا، وسیع اور نہایت ہی حسین مضمون بیان فرمایا ہے میں اس کے ایک پہلو کی طرف آج جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں لیکن قبل اس کے کہ میں اصل مضمون کی طرف آؤں۔میں یہ بات تمہید بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے نزدیک ہمارا یہ ملک بحیثیت قوم دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔قوم کا ایک حصہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچانتے ہوئے اور اس کی عظمت اور جلال کا مشاہدہ کرتے ہوئے ہر چیز کے لئے اسی کی طرف جھکتا اور ہر شر سے بچاؤ کے لئے اسی کی پناہ میں آتا ہے یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتا ہے۔اس ملک کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کی اکثریت (سارے تو نہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کچھ غیر مسلم بھی آباد ہیں ) خود کو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتی ہے وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں لیکن ہمیں یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف بھاگنے کی بجائے ان کے چہروں کا رخ کسی اور طرف