خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۵ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء ہوتا ہے اور ہر خیر کا منبع اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم فیوض کو سمجھنے کی بجائے وہ خیر کا منبع کہیں اور تلاش کرنے لگتے ہیں حالانکہ وہ مسلمان ہیں،خود کو مسلمان کہتے ہیں۔لیکن اسلام کے یہ معنے کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دینا حتی کہ اپنی گردن بھی اس کے آگے رکھ دینا کہ اگر خدا کی راہ میں وہ جاتی ہے تو جائے خدا کا پیار اور اس کی رضامل جائے ، ان کی زندگیوں میں اس قسم کا کوئی رنگ اور اسلام کے یہ حقیقی معنے جھلکتے نظر نہیں آتے۔بہر حال جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اس معنی میں ہم بھی ان کو مسلمان کہتے ہیں حالانکہ ان کو دعا کی طرف ان کو اعتصام باللہ کی طرف ان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی طرف، ان کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے حصار میں محصور ہونے کی طرف توجہ یا تو سرے سے ہوتی ہی نہیں یا اگر ہوتی بھی ہے تو بہت کم ہوتی ہے۔جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات سے نا آشنا اور اس کے فضل جذب کرنے کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتے۔اس لئے اب ساری قوم کی ذمہ داری جہاں تک دعاؤں کا تعلق ہے وہ ہمارے کندھوں پر آپڑی ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ہمارے ملک کا ایک گروہ تو وہ ہے جو خدا کی عظمت اور جلال کی معرفت اور عرفان رکھتا اور اس کی تمام صفات حسنہ کا علم رکھتا ہے اور ہر ضرورت کے وقت اسی کی طرف جھکتا اور اسی کا سہارا لیتا ہے اور ہر شر سے بچنے کے لئے اسی کی پناہ میں آنے کے لئے انتہائی کوشش کرتا ہے۔مگر ایک دوسرا گروہ جو ہے اس کی یہ حالت نہیں ہے۔تاہم ان میں سے بعض لوگوں کے متعلق یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح جھٹے کا وقت ہوتا ہے شاید اسی طرح کی روشنی میں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو دیکھنے والے بھی ہوں، اس کی طرف توجہ بھی کرتے ہوں لیکن ہمارے نزدیک وہ بھی تقویٰ کی راہوں کو اس کی ساری شرائط کے ساتھ قبول کرنے والے نہیں ہیں۔میں نے حالات کا یہ تجزیہ قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں بیان کیا ہے۔جس حد تک ہم نے قرآن کریم کو سمجھا ہے ہم نے تو اسی کے مطابق بات کرنی ہے۔میں نے گذشتہ خطبہ میں مختصر یہ بتایا تھا اور جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ملک کے استحکام کے لئے بہت دعائیں کی جائیں کیونکہ دعائیں کرنے کی اللہ تعالیٰ کی پناہ ڈھونڈنے کی