خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 25
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵ خطبہ جمعہ ۲۸ /جنوری ۱۹۷۲ء اس کی تعلیم کے مطابق اور اس کی شریعت کے اصول کے لحاظ سے ننانوے اکائیاں دے دو اور ایک کے متعلق روگردانی اور بغاوت کا طریق اختیار کرو تو تم باغی ہو۔اگر بھول جاؤ تو تم خدا تعالیٰ کے بعض فضلوں کو کھونے والے ہو سوائے اس کے کہ پھر ایک اور کوشش کرو یعنی استغفار اور دعاؤں اور خدا کے سامنے عاجزانہ تڑپنے کی۔یہ ایک اور کوشش ہے جو اس کمی کو پورا کرتی ہے پس کوشش بہر حال کرنی پڑے گی۔آدمی Indifferent ( ان ڈفرینٹ ) اور بے پرواہ نہیں رہ سکتا۔یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پر واہ کوئی نہیں۔جہاں اس نے یہ کہا کہ مجھے پرواہ کوئی نہیں ، وہاں وہ مارا گیا اور اس کے ننانوے بھی اس کے منہ پہ پھینک دئے گئے لیکن اگر کوئی بشری کمزوری ہے یا غفلت ہے یا عدم علم یا ناواقفیت کی وجہ سے کوئی مجبوری سمجھی گئی ( یہ جہالت کے بعض پہلو اور اندھیرے ہیں جو بعض دفعہ انسان کے اوپر چھا جاتے ہیں) حالانکہ وہ مجبوری نہیں تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ فضل کر دے تو اور بات ہے لیکن مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنی قوت اور طاقت، استعداد اور صلاحیت کے مطابق جتنا زیادہ سے زیادہ کر سکتا ہے وہ کرے اور اگر وہ خُدا کے حقوق اور خدا کی طرف سے عائد کردہ اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے انہیں خدا کے حضور پیش کر دے تو اس کے لئے بہترین جزا مقدر ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ سورہ نجم کی ان دو آیات کے بعد ان لوگوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے جو کچھ دیتے اور بقیہ کے متعلق بخل کرتے ہیں کہ کیا ان کو علم نہیں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔جو پہلی الہامی کتب میں بھی نظر آتا ہے۔یعنی اَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری۔وزر کے ایک معنے تو گناہ کے ہیں لیکن میں جو تفسیر کر رہا ہوں وہاں گناہ کے معنی چسپاں نہیں ہوتے۔میری تفسیر کے مطابق بوجھ کے معنی ہیں یعنی خدا تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے کہ کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی جس کی استعداد پچاس اکائیاں ہے وہ اتنی اکائیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی جو پچاس اور ساٹھ کے درمیان فرق ہے یا ۵۰ اور ۱۰۰ کے درمیان فرق ہے وہ تو دوسرے کا بوجھ ہے (جس کی طاقت زیادہ ہے اور ) اس کے اوپر نہیں پڑ سکتا۔اس کی جان پر اتنا ہی بوجھ پڑے گا جتنا کہ وہ اللہ تعالیٰ