خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 26

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶ خطبہ جمعہ ۲۸ /جنوری ۱۹۷۲ء کی عطا کردہ صلاحیتوں کے مطابق اٹھانے کے قابل ہے اس سے زیادہ نہیں لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ میں نے جو کوتاہی کی ، میں نے جو غفلت کی ، میں نے جو کمزوری دکھائی اور جو قربانی مجھے پیش کرنی چاہیے تھی، میں نے پیش نہیں کی تو کوئی اور شخص اس کی خاطر اس کمی کو پورا کر دے گا۔یہ ناممکن ہے اس واسطے کہ اس میں بھی تو اپنی استعداد سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی اہلیت نہیں ہے اگر اس کی ذمہ داری اتنی اکائیاں ہے تو اسی اکائیوں پر اس کی طاقت ختم ہوگی۔وہ دوسرے کی دس اکائیاں کہاں سے پوری کرے گا اگر اس کی طاقت نوا کائیاں ہے تو سو اس نے دے دینی ہیں ایک سو دس وہ کہاں سے لائے گا۔پس الا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری یہ ایک اٹل قانون ہے۔اگر زید اپنی پوری طاقت کے مطابق خدا کے حضور پیش نہ کرے تو زید کی طاقت کے اظہار یعنی محنت اور جانفشانی میں جو کمی رہ گئی ہے یہ کی کوئی دوسرا پوری نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا اپنا ایک دائرہ استعداد ہے اور اس دائرہ استعداد کی انتہا تک اس کی ذمہ داری ہے۔دوسرے کی ذمہ داری وہ کیسے اُٹھائے گا۔اَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اخری۔دوسرے کا بوجھ تو وہ اُٹھا ہی نہیں سکتا یہ ناممکن ہے کیونکہ یہ اٹل قانون ہے کہ کوئی انسان دوسرے کا بوجھ اور ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔زید بکر کی ذمہ داریاں نہیں اُٹھا سکتا اور بکر زید کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔ہر شخص کو اپنی ذمہ داریاں خود ہی ادا کرنی پڑیں گی اور ادا بھی اس طرح نہیں کرنی ہوں گی کہ کچھ دیا اور بقیہ کے متعلق بخل کر دیا بلکہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اپنی طاقت کو انتہا تک پہنچا کر اس کا آخری حصہ تک ادا کرنا پڑے گا کیونکہ دوسرا کوئی ہے ہی نہیں جو کمی کو پورا کر سکے۔عقلاً بھی کوئی دوسرا اس کمی کو پورا نہیں کرسکتا۔یہ خدا کا اٹل قانون ہے کیونکہ جو دوسرا ہے اس کو جتنی طاقت دی گئی تھی اس کے مطابق کام کرنے کی تو اس کی اپنی ذمہ داری تھی اور دوسرے کی ذمہ داری اُٹھانے کی اسے طاقت ہی نہیں ملی۔اس کی طاقت کا کوئی حصہ ایسا نہیں رکھا گیا جس کے بارہ میں اسے کہا گیا ہو کہ تو دوسرے کی ذمہ داری اٹھالے۔وہ دوسرے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ہر گز نہیں اٹھا سکتا۔پس جو قوم اپنے مقام کی انتہا کو پہنچنا چاہے، اس کے ہر فرد کی ایسی تربیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو انتہا تک پہنچانے والا ہو۔فرض کرو ایک لاکھ کی کوئی قوم