خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 358
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۸ خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۷۲ء یونیفارم پر خرچ کرتی تھی۔سات دن کے بعد میں پہلی دفعہ محاذ پر گیا تو میں نے وہاں یہ نظارہ دیکھا کہ بعض نوجوان احمدیوں کی قمیصوں کی آستینیں ہیں مگر دھڑ غائب ہے بعض کی قمیصوں کے دھڑ ہیں اور آستینیں غائب ہیں۔کیونکہ لنڈے کے پرانے کپڑے تھے پتہ نہیں وہ کتنی دیر استعمال شدہ تھے۔ان میں کوئی جان نہیں تھی سات دن کی بارشوں اور سختیوں نے یہ حال کر دیا تھا کہ وہ تار تار ہو چکے تھے لیکن انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔بارش میں بھی کام کرتے رہے۔جب کام کرنا ہو اور کام ضروری ہو تو وہ بارش میں بھی ہو گا لیکن جہاں نمازوں کا سوال تھا اس کے متعلق صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ بھی کہہ دیا۔بعض ایسے حالات ہوتے ہیں جن میں مسجد میں آنے کی ضرورت نہیں ہوتی اعلان ہو جاتا ہے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو۔نماز کی جو جان ہے وہ تو جہ کو قائم رکھنا ہے۔اب جس آدمی کے سر پر بارش کے قطرے گر رہے ہوں کبھی وہ کانوں کو کھجلائے اور کبھی وہ آنکھوں کو صاف کرے تو ظاہر ہے وہ تو جہ سے نماز نہیں پڑھ سکتا وہ نماز میں قیام اور رکوع اور سجدے تو کر سکتا ہے لیکن اس کی تو جہ قائم نہیں رہ سکتی اس واسطے جس حد تک ممکن ہو تو جہ کو قائم رکھنا چاہیے۔خطبہ جمعہ کو سننا بھی اس لئے ضروری ہے کہ ایک تو یہ ہماری عبادت کا حصہ ہے دوسرے یہ ہفتہ میں ایک بار یعنی جمعہ کے روز دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے امام پر بڑی سخت ذمہ داری ڈال دی ہے اسے لوگوں کی تربیت کے لئے کچھ نہ کچھ بیان کرنا پڑتا ہے۔یہ بڑی سخت ذمہ داری ہے میری زندگی میں خلافت کے بعد ہفتے کے سات دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے سخت دن ہوتا ہے کیونکہ میرے مقام کے لحاظ سے کوئی ایسی بات منہ سے نہیں نکلنی چاہیے جو ٹھیک نہ ہو یا درست نہ ہو یا مفید نہ ہو یا ضروری نہ ہو یا پھر جماعتی تربیت اس کی محتاج نہ ہو۔اس لئے مجھے بڑی استغفار کرنی پڑتی ہے۔بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں بڑا غور کرنا پڑتا ہے۔بڑا سوچنا پڑتا ہے اس لئے میرے لئے یہ دن بڑا سخت ہوتا ہے (اس اثناء میں چونکہ بارش کچھ زیادہ تیز ہو گئی تھی اور احباب ابھی تک شامل ہو رہے تھے اس پر حضور نے فرمایا) دوست اندر آجائیں ہمارے دل بڑے وسیع ہیں۔یہ برآمدہ بھی بڑا وسیع ہے۔یہاں اگر میں آپ کو باہر بٹھا دیتا اور آپ اپنے