خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۶ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء قسم کے جو کام ہیں اُن میں عقل ہمیں یہی کہتی ہے کہ سو فی صد نتیجہ ہونا چاہیے۔اسی طرح ایک انجینئر ہے۔آپ نے اُس کو چالیس فی صد نمبر دے کر پاس کر دیا۔وہ پانچ مکان بناتا ہے جن میں دو کی چھتیں قائم رہتی ہیں اور تین مکانوں کی چھتیں گر جاتی ہیں مگر آپ اُسے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ کہے گا میں پاس ہوں مجھے اسی معیار کے مطابق نمبر دے کر پاس کیا گیا تھا۔اگر تین مکانوں کی چھتیں گر گئی ہیں تو مجھ پر الزام نہیں بلکہ اس ادارے پر الزام ہے جس نے پاس کیا تھا۔بہر حال یہ مثال میں اس لئے دے رہا ہوں کہ بعض صلاحیتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اگر ان کی نشوونما سو فی صد نہ ہو تو وہ قوم کے لئے نقصان دہ بن جاتی ہیں گو بعض صلاحیتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اگر ان کی نشو و نما پچاس فی صد ہو تو اس طرح کا نقصان نہیں ہوتا البتہ یہ نقصان ضرور ہوتا ہے کہ اُس کے ذریعہ جو قومی دولت کا پچاس فی صد اور اضافہ ہونا تھا اس سے قوم محروم ہوگئی۔پس صلاحیتوں کا ایک دائرہ ہوتا ہے اور اس دائرے سے انسان آگے نہیں جاسکتا۔اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس دائرے تک پہنچ سکتا ہے تبھی وہ صلاحیت کا دائرہ بنا اور اس سے کم بھی رہ سکتا ہے اور جو کمی ہے وہ اس فرد اور اُس کی قوم کے نقصان کا باعث بنتی ہے۔یہ سوچ کر بڑی شرم آتی ہے کہ جس قوم کو یا جس امت کو اس قسم کی حسین تعلیم دے کر ان مسائل کو واضح کیا گیا تھا وہ اس مادی دنیا میں مادی دولت اور ذہنی دولت اور ذہنی نشو ونما کے لحاظ سے چین یا امریکہ یا روس یا یورپ سے پیچھے رہ گئی ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے آپ اُن سے آگے بڑھ سکتے ہیں اس لئے کہ ( یہ میری خوش فہمی ہی نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ) یہ قو میں بھی بحیثیت مجموعی اپنے اپنے دائرہ استعداد یا دائرہ صلاحیت کی آخری حد سے ابھی ورے ہیں۔ابھی اس لکیر تک نہیں پہنچیں جو اس دائرے کو معین کرتی ہے۔اگر آپ اُس آخری حد تک پہنچ جائیں تو آپ اُن سے آگے نکل جائیں گے۔اس واسطے اُمت محمدیہ کی زندگی میں لغو کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔(المؤمنون : ۴) جس کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ یہ امت اور اس کے افراد ہر اس کام سے اجتناب کرتے