خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 333

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۳ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء فتنہ وفساد، ذرائع پیداوار اور خداداد استعدادوں اور طاقتوں کو تباہ کر کے انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد بنا دیتا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۱ اگست ۱۹۷۲ء بمقام سعید ہاؤس۔ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوله في الحيوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ الدُّ الْخِصَامِ - وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ - وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ۔وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ - (البقرة : ۲۰۵ تا ۲۰۷) b اور پھر فرمایا:۔میں نے اس سے پہلے جو خطبہ دیا تھا اس میں میں نے بتایا تھا، اسلامی تعلیم نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔وہ اسے اچھا نہیں سمجھتا۔وہ اس سے نفرت کرتا ہے۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ عربی زبان میں ” فساد" کا لفظ ”صلاح“ کے مقابلے پر آتا ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں لفظ آپس میں متضاد ہیں۔” صلاح“ کے لفظ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسانی حقوق و واجبات کو ادا کیا جائے اور حقوق و واجبات کی ادائیگی کی اہلیت بھی ہو۔اس کے مقابلے میں فساد کے معنے یہ ہوں گے کہ