خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 324

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۴ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء اس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے وجود کا ایک حصہ بالکل کمزور ہے۔لیکن اُن کا جوڈ نیوی اور مادی حصہ ہے مثلاً جسمانی اور ذہنی طور پر اور ظاہری دُنیوی اخلاق کے لحاظ سے اُن کا معیار بہت بلند ہے۔اب تو روس کے برخلاف چین نے اخلاقی اقدار کو بھی اپنا لیا ہے۔غرض انتہائی طور پر محنت کرنا چینی معاشرہ کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ایک احمدی مسلمان کو اُن سے بھی زیادہ محنت کرنی چاہیے۔اُن کے مقابلے میں ہمارے سامنے محنت کا ایک زاید میدان ہے اور یہ روحانی میدان ہے۔یہی اصل میدان ہے۔یہ چھت ہے دوسری چیزیں ستون ہیں۔لوگوں نے یہ ستون تو بنا لئے مگر ہم نے ان ستونوں پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ ان کے اوپر چھت بھی بنانی ہے۔چونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی منشاء کے مطابق دُنیا کے ہر نفس کے اندر روحانی اقدار قائم کرنی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جسمانی قوتیں ، ذہنی استعدادیں اور اخلاقی صلاحیتیں بھی عطا فر ما ئیں تا کہ روحانی چھت بناسکیں جو حفاظت کا ذریعہ بنے۔بالکل اسی طرح جس طرح یہ جسمانی آسمان بہت ساری جسمانی حفاظتوں اور بالواسطہ روحانی حفاظتوں کا سامان پیدا کرتا ہے، روحانی استعدادوں کے کمال پر مشتمل روحانی چھت سارے افراد بلکہ تمام بنی نوع انسان کو ہر قسم کی تباہی سے (جس میں جسمانی تباہی بھی شامل ہے ) محفوظ رکھتی ہے۔بہر حال ہمیں چینیوں سے زیادہ کام کرنا ہے۔کیونکہ ہمارے لئے ایک زاید میدانِ عمل ہے۔جو ان کے لئے نہیں ہے۔اس طرح دوسرے شعبوں میں بھی ہم نے ان سے کم کام نہیں کرنا بلکہ اُن سے زیادہ کام کرنا ہے۔ہمارے ہر کام میں زیادہ حسن ہونا چاہیے۔ہمارے علم و عمل میں زیادہ حسن و احسان پایا جانا چاہیے۔اس کے نتائج ہر اعتبار سے اچھے نکلنے چاہئیں۔بنی نوع انسان جہاں جہاں بستے ہیں ان کی خیر خواہی اور بھلائی کے سامان ہماری کوششوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے چاہئیں۔ان کے لئے دُکھ اور پریشانی کا سامان پیدا نہیں ہونا چاہیے۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اُس رنگ میں محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس رنگ میں وہ چاہتا ہے کہ ہم محنت کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں یہ توفیق بخشے کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو روز بروز ترقی دیتے چلے جانے میں کامیاب ہو جا ئیں ، ہماری محنت ہر روز پہلے