خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 287
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۷ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء پڑے گی۔جب ہر تحصیل میری سکیم کے مطابق کام آئے گی تو بہت ساری چیزیں اُن کے سامنے ایسی بھی آئیں گی جن کو میں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔اُن کو خود ہی سمجھ آجائے گی۔بہر حال ہر تحصیل کے احمدیوں کو چاہیے کہ وہ پندرہ دن میں دو ہزار روپے جمع کریں۔دو ہزار میں سے فرض کریں چار سو کے قرآن کریم دے دیتے ہیں تو اتنی رقم گویا آپ کو واپس آگئی۔اس کے آپ اور قرآن کریم منگوا لیں آپ نے دو ہزار سے نیچے نہیں جانا۔دو ہزار روپے گویا آپ کا ریز رو ہے۔ضمنا میں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ مثلاً نصرت جہاں آگے بڑھو کی سکیم کے ماتحت جو کام ہور ہے ہیں۔اس سلسلہ میں مجھے ایک دن خیال آیا کہ ایک خاص رقم سے نہ یہاں کا ہمارا فنڈ نیچے جا رہا ہے اور نہ غیر ملکی فنڈ سے نیچے جا رہا ہے حالانکہ یہ کوئی منصو بہ نہیں تھا کہ اس سے نیچے نہ جائے۔چونکہ میرے پاس ہر ہفتے رپورٹیں آتی ہیں چنانچہ میں نے دیکھا کہ یہ فنڈ ایک خاص رقم سے نیچے نہیں جا رہا۔میں نے سوچا کہ اس حد تک خدا تعالیٰ نے اسے سلسلہ کے لئے ریز رو بنا دیا ہے اور اس طرح پاکستان میں دس لاکھ روپے بطور ریز رور ہیں گے۔پچھلے ایک مہینے میں نوے ہزار اور ایک لاکھ کے درمیان خرچ کرنا پڑا اور پھر جب آخری رپورٹ میرے سامنے آئی تو دس لاکھ اور چند ہزار کے قریب رقم باقی تھی۔اسی طرح ہماری ہیں ہزار پونڈ کی رقم غیر ملکوں میں ریزرو ہے جو وہاں کے باشندوں نے جمع کی ہے۔حالانکہ وہاں سے ایک ایک وقت میں پانچ پانچ ہزار پونڈ افریقہ میں بھجوائے جاچکے ہیں۔ہماری جماعتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دُنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ہر ایک جماعت نے نصرت جہاں ریز روفنڈ میں حصہ لیا ہے۔اس لئے ہماری کوشش یہ تھی کہ ساری رقمیں اکٹھیں ہو جائیں تا کہ ان کے Operate کرنے میں مشکل پیش نہ آئے اور وقت ضائع کئے بغیر اُن سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔چنانچہ میں نے یہ ہدایت کی تھی کہ اس فنڈ کا کچھ حصہ انگلستان میں اور کچھ حصہ امریکہ میں رکھ کر باقی سوئٹزرلینڈ میں بھجوا دیا جائے۔چنانچہ اس وقت ۱۴ / ۱۳ ہزار پونڈ سوئس فرانک کی شکل میں ریزرو ہیں۔اور ۵/۶ ہزار پونڈ انگلستان میں ریز روتھا۔وہاں سے کچھ رقم سوئٹزرلینڈ بھجوا دی گئی تھی۔باقی اور بھی ۲۴/ ۲۳ ہزار پونڈ کی رقمیں دُنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔تاہم میں نے یہ دیکھا ہے کہ اس سے پہلے بھی اور بعد بھی ہیں ہزار پونڈ