خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 288

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۸ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء سے رقم نیچے نہیں گئی۔گویا یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ریز رو قائم کر دیا ہے۔تا کہ ہم گھبرا نہ جائیں۔میں تو جو ضرورت ہوتی ہے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے راستے میں مالی قربانی کی شکل میں پیش کرو میں اپنا کام تو نہیں کر رہا کہ مجھے فکر ہو۔جس کا یہ کام ہے وہ آپ ہی ضرورت کو پوری کر دے گا۔غرض دوست دعا کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں تو فیق عطا فرمائے اور ہم اگلے پانچ سال میں قرآن کریم کے دس لاکھ نسخے دُنیا بھر میں پھیلا دیں۔اس کارِ خیر میں حصہ لینا ہم سے کے لئے موجب برکت ہوگا۔دوست اپنے ایک مجاہد بھائی کے لئے بھی دعا کریں۔ڈاکٹر حسن پچھلے سال سیرالیون گئے تھے۔ان کے متعلق پہلے بھی تار آئی تھی۔آج پھر تار آئی ہے کہ اُن کی حالت تسلی بخش نہیں۔اُن کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور اندیشہ یہ ہے کہ شاید گردے کے کسی پتھر نے راستہ بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ”ٹاکسین جمع ہورہے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو شافی مطلق ہے وہ اپنے فضل سے ان کو صحت اور زندگی عطا فرمائے۔پھر اپنے لئے بھی دعا کریں اور سب سے زیادہ تکمیل اشاعت قرآن کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کام میں کامیابی بخشے۔آپ یا درکھیں اس وقت ہمارے سامنے خالی اشاعت قرآن نہیں کہ آپ سمجھیں کہ ہم نے بھی تاج کمپنی کی طرح اشاعت کر دی اور کافی ہو گیا۔تکمیل اشاعت ہدایت ہماری ذمہ داری ہے صرف اشاعتِ ہدایت ہماری ذمہ داری نہیں اور اس تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ہر انسان کے ہاتھ میں قرآن کریم کی ہدایت پہنچانی ہے۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری کمزوریوں کے باوجود، مال کی کمی کے باوجود اور اثر و رسوخ کی کمی کے باوجود اور اندرونی اور بیرونی فتنوں کے باوجود ہمیں اس کار خیر کی کماحقہ تو فیق عطا فرمائے۔جہاں تک اندرونی فتنوں کا سوال ہے منافق بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ لگایا ہوا ہے تاکہ ہم بیدار رہیں۔شیطان نے بھی ایک بزرگ کو تہجد کے لئے اُٹھا دیا تھا۔پہلے دن سلائے رکھا اور دوسرے دن خود اٹھا دیا۔اس بزرگ نے کہا شیطان ! تو مجھے اُٹھانے کیسے آگیا؟