خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 282
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۲ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء رکھ سکتا۔کیونکہ اس پر خرچ چھ روپے سے کچھ زیادہ ہو گیا ہے اور کچھ ہم لوگوں کو مفت دے دیتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے اس سلسلہ میں کام کرنے والوں نے رضا کارانہ طور پر کام کیا۔ہم نے تنخواہ دار آدمی نہیں رکھے ہوئے اگر اس کی قیمت میں تھوڑا سا اضافہ کر دیا جائے تو پھر بھی اصل خرچ کے اندر ہی رہتا ہے۔میں نے کہا میں اس کی قیمت سات روپے رکھنا چاہتا ہوں۔اس پر ہمارے گھر سے ایک عزیز کہنے لگے کہ یہ تو بہت کم قیمت ہے۔اس کی قیمت کم از کم دس بارہ روپے ہونی چاہیے۔میں نے کہا میں اتنی زیادہ قیمت کیوں رکھوں میں کوئی تاجر تو نہیں۔میری تو یہ خواہش ہے که قرآن کریم ہر آدمی کے ہاتھ میں پہنچادیا جائے اور یہ خواہش تبھی پوری ہوسکتی ہے جب ہم دُنیا کی تجارت نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ سے تجارت کریں۔یہ تجارت تو ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میرے ساتھ تجارت کرو۔چنانچہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اے ہمارے پیارے رب ! ہم تیرے ساتھ تجارت کریں گے۔پس اگر دوست اس سلسلہ میں کوشش کریں تو الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ “ کی رُو سے ہمیں انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی بڑی برکت ملے گی۔ابوظہبی وغیرہ عرب ریاستیں جو پٹرولیم کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔وہاں بھی خدا کے فضل سے احمدی دوست کام کرتے ہیں۔وہاں سے پچھلے سال مجھے دوستوں کے کئی خط آگئے کہ پنجاب کے جو علماء وہاں گئے ہوئے ہیں اُنہوں نے ہمارے خلاف ایک ہی بڑی زبر دست دلیل دی ہے اور اس کا ہمیں جواب چاہیے اور انہوں نے ہمارے خلاف دلیل یہ دی ہے کہ احمدیوں کا قرآن کریم اور ہے۔اس لئے ہمیں ربوہ کا چھپا ہوا قرآن کریم بھیج دیں تا کہ ہم ان کو دکھا سکیں کہ ہمارا قرآن اور نہیں ہے بلکہ وہی قرآن ہے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔اُس وقت تو یہ قرآن کریم ابھی چھپے نہیں تھے اب چھپ گئے ہیں۔ایک دوست وہاں سے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے کہا تم جتنے لے جاسکتے ہو لے جاؤ اور ان کو بتا دو کہ قرآن عظیم جو اللہ کی کتاب ہے نہ ہماری نہ تمہاری اور اللہ کی یہ عظیم کتاب ایک ہی ہے۔اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔غرض ربوہ کا چھپا ہوا قرآن ہو تو ہر جگہ کے احمدی ایسے اعتراض کرنے والے لوگوں