خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 283

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۳ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بتاؤ کون سی آیت نئی ڈالی ہے اور کون سی نکالی گئی ہے۔یہ تو وہی قرآن کریم ہے جو اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔پس ہم نے اس کی تجارت اللہ تعالیٰ سے کرنی ہے۔ہم نے پانچ دس فیصدی نفع نہیں لینا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے ساتھ تجارت کرے گا اسے دس گنا زیادہ دوں گا اور اگر چاہوں تو اس سے بھی زیادہ دوں گا۔اس لئے ہم نے یہ دعا کرنی ہے کہ اے ہمارے خدا! ہمارے لئے یہ پسند فرما اور توفیق دے کہ ہم اس کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں اور زیادہ سے زیادہ ثواب اور اجر کے مستحق ٹھہریں۔اس وقت آپ دوست جو میرے سامنے بیٹھے ہیں جن میں کچھ دوست باہر سے بھی آئے ہوئے ہیں جہاں جہاں سے بھی آپ کا تعلق ہے وہاں قرآن کریم کی اشاعت کریں۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہر تحصیل اگر دو ہزار روپے کا سرمایہ جمع کرے امراء ضلع کو تو میں نے پوری سکیم بتائی تھی کہ دو ہزار روپے فی تحصیل جمع کر کے اس سے قرآن کریم خرید لو اور کوشش یہ کرو کہ پوری قیمت یعنی چھ روپے جو اصل لاگت ہے اس پر فروخت کر دو اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو ایک دوروپے رعایت دے کر بھی قرآن کریم کو ہر آدمی کے ہاتھ میں پہنچانے کی کوشش کرو۔یہ رعایت ہمیں اس لئے بھی دینی پڑتی ہے کہ رسول نے فرمایا تھا:۔يُرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم اس وقت متروک و مہجور ہے۔ایک شخص جو مسلمان کہلاتا ہے وہ ایک شام کی عارضی اور متنوعی اور بے معنی لذت حاصل کرنے کے لئے تیس روپے خرچ کرتا اور اپنے بیوی بچوں کو سینما دکھانے چلا جاتا ہے مگر چھ سات روپے قرآن کریم اور اس کے ترجمے کے لئے خرچ نہیں کرتا جو اس کے لئے ساری عمر برکت کا موجب ہے۔پس يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًاً ایک صداقت ہے جسے دُنیا جھٹلا نہیں سکتی لوگوں کا عمل بتا رہا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجھے اور آپ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ قرآن کریم کی عظمت کو دوبارہ قائم کیا جائے۔اس لئے اب قرآن کریم