خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۵ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر بڑا فضل فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ علاوہ اور بہت سی روشنیوں کے ایک یہ صداقت بھی ملی ہے کہ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے۔یہ ابدی صداقتوں پر مشتمل اور ہر زمانے کی عقول نا قصہ کے اختلافات کو دور کرنے والی کتاب ہے الحمد للہ ثم الحمد للہ۔پس ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کی حمد کرتے رہنا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا عظیم احسان ہے کہ اگر ہم اپنی ساری عمر الحمد للہ پڑھتے رہیں تب بھی صرف اس احسان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔لیکن اس نے ہمیں یہ کہہ کر تسلی دی۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) فرمایا تمہاری جتنی طاقت ہے اتنا کام کر لو گے تو میں سمجھوں گا تم نے سارا کام کر لیا اور یہ گویا اس کا ہم پر ایک اور احسان ہو گیا۔پس ہم نے قرآن کریم کی عظمت کو پہچانا ہے اور صرف یہی نہیں کہ ہم نے قرآن کریم کی عظمت کو پہچانا بلکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم ساری دُنیا کے دل میں قرآن کریم کی عظمت کو قائم کر دیں۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی بالکل بے معنی ہے۔چنانچہ اشاعت قرآن کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو توفیق بخشی۔اللہ تعالیٰ نے بڑی رحمتیں نازل کیں۔میری خلافت سے پہلے بہت کام ہوا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے دُنیا کا ذہن بدل دیا مثلاً جس وقت جماعت احمدیہ کی طرف سے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ ہوا اس وقت جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے دُنیا کی حالت یہ تھی کہ جو عوام تھے اُن کو تو علم ہی نہیں تھا کہ قرآن کریم جیسی عظیم کتاب انسان کی طرف دُنیا میں نازل ہو چکی ہے۔جو متوسط طبقہ کے پڑھے لکھے لوگ تھے اُنہوں نے شاید قرآن کریم کا نام تو سنا ہو لیکن اُن کے دل میں اس سے کوئی محبت یا دلچسپی نہیں تھی۔جو لوگ زیادہ پڑھے لکھے تھے اور سکالرز کہلاتے تھے جن کا عملی مجالس میں اُٹھنا بیٹھنا تھا اور اُن کا آپس میں تبادلہ خیال ہوتا تھا۔اُن کو قرآن کریم کے ساتھ محض اس قدر دلچسپی تھی اور اُن کے دل میں قرآن کریم کی صرف اتنی قدر تھی کہ