خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 276

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء اگر قرآن کریم کا ترجمہ انگریزی کے طریقہ پر اُن کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ شاید قرآن کریم پر احسان کر کے کبھی کبھی اُسے دیکھ لیا کریں۔اب ویسے تو یہ طریق درست نہیں ہے کہ قرآن کریم کا متن اس کے ترجمے کے پیچھے چلے اصل طریق تو یہ ہے کہ ترجمہ متن کے پیچھے چلے لیکن میں آپ کو بتارہا ہوں کہ اس وقت دنیا کی حالت یہ تھی کہ اگر قرآن کریم کا ترجمہ ہماری تحریر یا رسم الخط کی طرز پر دائیں بائیں ہوتا تو صرف اتنی سی وجہ سے کہ ہمیں عادت نہیں ہے دُنیا کے انگریزی خواں طبقہ نے بھی قرآن کریم کو ہاتھ نہیں لگا نا تھا۔پھر تراجم ہوئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زیر نگرانی بھی ایک ترجمہ ہوا اور ہمارے خیال میں وہ ضائع ہو گیا۔واللہ اعلم۔پھر حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی تفسیر کی اور آپ کی زیر نگرانی انگریزی کے علاوہ اور بھی مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے مثلاً ڈچ زبان میں ترجمہ ہوا، جرمن زبان میں ترجمہ ہوا، سواحیلی زبان میں ترجمہ ہوا، روسی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی ترجمے ہو چکے ہیں۔لیکن چونکہ روسی اور فرانسیسی جاننے والے احمدی ہمیں نہیں ملے اور یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اس واسطے ان کے مسودے پڑے ہوئے ہیں۔ہم نے ابھی تک اُن کو شائع نہیں کیا۔اب چند سال پہلے فرانسیسی ترجمہ کی Revision ( ری ویژن ) کے ہم قابل ہوئے تھے۔اس کا مسودہ اشاعت کے لئے تیار ہے۔انشاء اللہ دو ایک سال میں مارکیٹ میں آجائے گا لیکن روسی ترجمہ قرآن کریم کی نظر ثانی ہم نہیں کروا سکے۔میرے خیال میں بعض اور زبانوں میں بھی تراجم کے مسودے تیار ہیں لیکن اس وقت میرے ذہن میں نہیں۔بہر حال میں یہ بتا رہا ہوں یہ جو ڈچ زبان یا جرمن زبان یا انگریزی زبان بائیں سے دائیں کو چلتی ہے اس کے مطابق ہم نے متن کو رکھا اور اس طرح جہاں سورۃ الحمد ہونی چاہیے تھی وہاں سورۃ الناس آ گئی۔غرض ابتداء میں متن نے ترجمہ کا پیچھا کیا۔صرف اس نیت سے کہ ان لوگوں میں قرآن کریم کے ساتھ کوئی دلچسپی پیدا ہو۔اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم کامیاب ہو گئے۔یہ خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ لوگوں کے ذہن میں ایک انقلاب آ گیا گو یہ ایک چھوٹا سا انقلاب ہے مگر ہے یہ بھی انقلاب جس طرح سمندر میں طوفان آئے تو کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ پہاڑ جیسی اُٹھنے والی ایک لہر طوفان کا حصہ نہیں ہے۔وہ طوفان کا حصہ ہے لیکن طوفان نہیں ہے۔اسی ا