خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 265
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۵ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء سے میں نے ان کو اکٹھا کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف میری عظمت کے سامنے تم نے جھکنا ہے کسی اور کے سامنے اپنے سروں کو نہیں جھکانا اور خالصتاً صرف میری اطاعت کرنی ہے اور کسی کی اطاعت نہیں کرنی۔میں نے محبت کا جو ذکر کیا ہے وہ دراصل سارا اطاعت کا کرشمہ ہے کیونکہ اصل اطاعت محبت کے زور ہی سے کروائی جاتی ہے۔یہ جو ڈنڈے کے زور سے اطاعت کروائی جاتی ہے یہ اطاعت نہیں ہوتی۔بلکہ اطاعت کا چھلکا ہوتی ہے۔محبت کے زور سے جو اطاعت کروائی جاتی ہے وہ ظاہر میں بھی اطاعت ہوتی ہے اور باطن میں بھی اطاعت ہوتی ہے وہ برسر عام بھی اطاعت ہوتی ہے اور بالکل تنہائی کے لمحات میں بھی اطاعت ہوتی ہے کیونکہ اس اطاعت کا تعلق اور اظہار ہی اور ہوتا ہے۔پس حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکوں اور تذلل اختیار کروں۔اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں صرف اسی کی اطاعت کروں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی دوسری جگہ یہ اعلان بھی کروا دیا۔اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) کہ پہلا مخاطب بھی میں اور سب سے بڑھ کر اطاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اور پہلا مسلم اور مومن بھی میں ہی ہوں اسی لئے یہ اعلان بھی کروا دیا کہ اے نبی ! کہہ دو۔قُلِ اللهَ اعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِینی خدا تعالیٰ کے حضور کامل اور انتہائی تذلیل کے ساتھ جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اس کی خالص اطاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں۔باقی میں اور آپ ہم سب لوگ اور جو پچھلے چودہ سو سال میں پیدا ہوئے ہیں ، ہمیں ہر چیز ظلی اور طفیلی طور پر ملی ہے۔خلی اور طفیلی کے اسی مسئلے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہماری جماعت کے بعض دوستوں نے دھوکا کھایا ہے۔کچھ بھی بغیر ظل اور طفیل کے نہیں ملتا اور اگر خلتی اور طفیلی رشتہ قائم ہو تو پھر سب کچھ پل جاتا ہے۔غرض سورہ زمر کی اس آیہ کریمہ اللهُ نَزِّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ الح کی رو سے یہ پتہ لگتا ہے کہ